سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب فِي سُورَةِ الصَّمَدِ
باب: سورۃ الاخلاص کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1461
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلًا سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ يُرَدِّدُهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ، وَكَأَنَّ الرَّجُلَ يَتَقَالُّهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کو «قل هو الله أحد» باربار پڑھتے سنا، جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا، گویا وہ اس سورت کو کمتر سمجھ رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ (سورۃ) ایک تہائی قرآن کے برابر ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1461]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کو سنا کہ وہ ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] بار بار پڑھ رہا تھا۔ صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس بات کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، اور وہ گویا اس کو کم سمجھ رہا تھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، بیشک یہ تہائی قرآن کے برابر ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1461]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضائل القرآن 13 (5013)، والأیمان والنذور 3 (6643)، والتوحید 1 (7374)، سنن النسائی/الافتتاح 69 (996)، وعمل الیوم واللیلة 204 (698)، (تحفة الأشراف:4104)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن 6 (17)، مسند احمد (3/35، 43) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5013)