المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
41. مُعْجِزَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نُزُولِ الْمَاءِ مِنَ السَّمَاءِ
رسولُ اللہ ﷺ کے لیے آسمان سے پانی نازل ہونے کا معجزہ۔
حدیث نمبر: 575
حدثنا أبو سعيد إسماعيل بن أحمد الجُرْجاني، أخبرنا محمد بن الحسن العَسقَلاني، حدثنا حَرمَلة بن يحيى، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن سعيد بن أبي هلال، عن عُتْبة - وهو ابن أبي حَكِيم - عن نافع بن جُبير، عن عبد الله بن عباس: أنه قيل لعمر بن الخطَّاب: حدِّثنا عن شأنِ ساعة العُسْرة، فقال عمر: خرجنا إلى تبوكَ في قَيظٍ شديد، فنزلنا منزلًا أصابَنا فيه عطشٌ حتى ظننَّا أنَّ رقابنا ستنقطعُ، حتى إنَّ الرجل لَيَنحَرُ بعيرَه، فيَعصِرُ فَرْثَه فيشربُه ويجعل ما بقيَ على كَبِده، فقال أبو بكر الصِّدِّيق: يا رسول الله، إِنَّ الله قد عَوَّدَك في الدعاءِ خيرًا، فادعُ له، فقال:"أتحبُّ ذلك؟" قال: نعم، فرفع يديه فلم يَرجِعْهما حتى قالت السماءُ فأظلَّت ثم سَكَبَت فملؤوا ما معهم، ثم ذهبنا ننظرُ فلم نَجِدْها جازت العسكرَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وقد ضمَّنه سُنَّةً غريبةً: وهو أنَّ الماء إذا خالطه فَرْثُ ما يُؤكَل لحمُه لم ينجّسه، فإنه لو كان ينجِّس الماءَ لما أجاز رسول الله ﷺ لمسلمٍ أن يجعلَه على كَبِدِه حتى يُنجِّسَ يديه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 566 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وقد ضمَّنه سُنَّةً غريبةً: وهو أنَّ الماء إذا خالطه فَرْثُ ما يُؤكَل لحمُه لم ينجّسه، فإنه لو كان ينجِّس الماءَ لما أجاز رسول الله ﷺ لمسلمٍ أن يجعلَه على كَبِدِه حتى يُنجِّسَ يديه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 566 - على شرطهما
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے غزوہ تبوک (ساعتِ عسرت) کے حالات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ہم سخت گرمی میں تبوک کی طرف نکلے، ایک مقام پر ہمیں ایسی سخت پیاس لگی کہ ہمیں محسوس ہوا کہ ہماری گردنیں کٹ جائیں گی، یہاں تک کہ آدمی اپنا اونٹ ذبح کرتا اور اس کی اوجھڑی نچوڑ کر (رطوبت) پی لیتا اور باقی حصہ اپنے جگر پر رکھ لیتا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں میں ہمیشہ خیر رکھی ہے، اس لیے ہمارے لیے دعا فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم ایسا چاہتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے اور ابھی نیچے بھی نہیں لائے تھے کہ بادل چھا گئے اور ایسی بارش ہوئی کہ سب نے اپنے برتن بھر لیے، پھر ہم نے دیکھا کہ وہ بارش لشکر کی حدود سے باہر نہیں تھی۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اور اس میں یہ فقہی نکتہ ہے کہ حلال جانور کی اوجھڑی کی رطوبت پانی کو ناپاک نہیں کرتی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 575]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اور اس میں یہ فقہی نکتہ ہے کہ حلال جانور کی اوجھڑی کی رطوبت پانی کو ناپاک نہیں کرتی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 575]