المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
14. إِذَا قَرَأَ الْإِمَامُ فَلَا تَقْرَؤُوا إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا
جب امام قراءت کرے تو تم نہ پڑھو سوائے سورۃ الفاتحہ کے، کیونکہ جس نے اسے نہ پڑھا اس کی نماز نہیں۔
حدیث نمبر: 790
ما أخبرَناه أبو محمد عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب، حدثنا إسحاق بن أحمد بن مِهران الخَزَّاز، حدثنا إسحاق بن سليمان الرازي، حدثنا معاوية بن يحيى، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي فَروة، عن عبد الله بن عمرو بن الحارث، عن محمود بن الرَّبيع الأنصاري قال: قام إلى جنبي عُبادة بن الصامت فقرأَ مع الإمام وهو يقرأُ، فلما انصرف قلت: أبا الوليد، تقرأُ وتُسمِعُ وهو يَجهَر بالقراءة؟! قال: نعم، إنَّا قرأنا مع رسول الله ﷺ، فغَلِطَ رسول الله ﷺ ثم سَبَّح، فقال لنا حين انصرف:"هل قرأ معي أحدٌ؟" قلنا: نعم، قال:"قد عَجِبتُ قلتُ: مَن هذا الذي يُنازِعُني القرآنَ؟ إذا قرأ الإمامُ فلا تقرؤوا إلّا بأمِّ القرآن، فإنه لا صلاةَ لمن لم يَقرَأْ بها" (2) . هذا متابِعٌ لمكحول في روايته عن محمود بن الرَّبيع، وهو عزيز، وإن كان راويهِ إسحاق بن أبي فَرْوة فإني ذكرتُه شاهدًا.
محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے امام کی بلند آواز قرأت کے باوجود ساتھ ساتھ قرأت کی، جب نماز مکمل ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: "جب امام قرأت کرے تو تم سورہ فاتحہ کے سوا کچھ نہ پڑھو، کیونکہ جو اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔"
یہ روایت مکحول کی تائید میں ہے اور میں نے اسے بطور شاہد ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 790]
یہ روایت مکحول کی تائید میں ہے اور میں نے اسے بطور شاہد ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 790]
حدیث نمبر: 791
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، حدثنا أحمد بن سَلَمة، حدثنا عبد الرحمن بن بِشْر العبدي، حدثنا يحيى بن سعيد القطَّان، حدثنا جعفر بن ميمون، حدثنا أبو عثمان النَّهْدي، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ أمرَه أن يخرُجَ ينادي في الناس:"أن لا صلاةَ إلّا بقراءة فاتحةِ الكتاب، فما زادَ" (1) .
هذا حديث صحيح لا غُبارَ عليه، فإنَّ جعفر بن ميمون العَبْدي من ثِقات البصريين! ويحيى بن سعيد لا يحدِّث إلّا عن الثقات. وقد صحَّت الروايةُ عن أمير المؤمنين عمر بن الخطَّاب وعلي بن أبي طالب أنهما كانا يأمُرانِ بالقراءة خلفَ الإمام. أما حديث عمر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 872 - صحيح لا غبار عليه وجعفر ثقة_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ عُمَرَ
هذا حديث صحيح لا غُبارَ عليه، فإنَّ جعفر بن ميمون العَبْدي من ثِقات البصريين! ويحيى بن سعيد لا يحدِّث إلّا عن الثقات. وقد صحَّت الروايةُ عن أمير المؤمنين عمر بن الخطَّاب وعلي بن أبي طالب أنهما كانا يأمُرانِ بالقراءة خلفَ الإمام. أما حديث عمر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 872 - صحيح لا غبار عليه وجعفر ثقة_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ عُمَرَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ لوگوں میں یہ منادی کر دیں: ”سورہ فاتحہ اور اس کے ساتھ کچھ مزید (قرآن) پڑھے بغیر کوئی نماز نہیں ہوتی۔“
یہ حدیث صحیح ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، کیونکہ جعفر بن میمون ثقہ بصری راویوں میں سے ہیں اور یحییٰ بن سعید صرف ثقہ راویوں سے روایت کرتے ہیں۔ نیز سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے بھی امام کے پیچھے قرأت کا حکم ثابت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 791]
یہ حدیث صحیح ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، کیونکہ جعفر بن میمون ثقہ بصری راویوں میں سے ہیں اور یحییٰ بن سعید صرف ثقہ راویوں سے روایت کرتے ہیں۔ نیز سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے بھی امام کے پیچھے قرأت کا حکم ثابت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 791]
حدیث نمبر: 792
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا حفص بن غِياث. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا أبو كُرَيب، حدثنا حفص، عن أبي إسحاق الشَّيباني، عن جَوَّاب التَّيمي، وإبراهيم بن محمد بن المنتشِر، عن الحارث بن سُوَيد، عن يزيد بن شَرِيك: أنه سأل عمرَ عن القراءة خلفَ الإمام، فقال: اقرأْ بفاتحةٍ الكتاب، قلت: وإن كنتَ أنت؟ قال: وإن كنتُ أنا، قلت: وإن جَهَرتَ؟ قال: وإن جهرتُ (1) . وأما حديث علي بن أبي طالب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 873 - صحيح_x000D_ وَأَمَّا حَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 873 - صحيح_x000D_ وَأَمَّا حَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
یزید بن شریک سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے امام کے پیچھے قرأت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”سورہ فاتحہ پڑھا کرو۔“ میں نے پوچھا: خواہ امام آپ ہوں؟ فرمایا: ”ہاں، خواہ میں ہوں۔“ میں نے پوچھا: خواہ آپ بلند آواز سے قرأت کر رہے ہوں؟ فرمایا: ”ہاں، خواہ میں بلند آواز سے قرأت کر رہا ہوں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 792]