🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

28. تَأْكِيدُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ
رسولُ اللہ ﷺ نے نمازِ عشاء کی خاص تاکید فرمائی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 821
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد (2) بن يونس الضَّبِّي، حدثنا يحيى بن أبي بُكَير، حدثنا أبو جعفر الرازي، حدثنا حُصين بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن شدَّاد، عن ابن أمِّ مكتوم: أنَّ رسول الله ﷺ استَقبَل الناسَ في صلاة العشاء فقال:"لقد هَمَمتُ أن آتِيَ هؤلاءِ الذين يتخلَّفون عن هذه الصلاة فأُحرِّقَ عليهم بيوتَهم"، فقام ابن أم مكتوم فقال: يا رسول الله، لقد علمتَ ما بي، وليس لي قائد، قال:"أتسمعُ الإقامةَ؟" قال: نعم، قال:"احضُرْها" قال: يا رسول الله، إنَّ بيني وبينها نخلًا وشجرًا، وليس لي قائد، قال:"أتسمعُ الإقامة؟" قال: نعم، قال:"فاحضُرْها"، ولم يُرخِّص له (1) . وله شاهد آخر من حديث عاصم بن بَهْدلة:
سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں لوگوں کی طرف رخ کر کے فرمایا: میرا ارادہ ہوا کہ میں ان لوگوں کے پاس جاؤں جو اس نماز سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور ان کے گھروں کو ان پر آگ لگا کر جلا دوں۔ تو سیدنا ابن ام مکتوم کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو میرے حال کا علم ہے، میں نابینا ہوں اور میرا کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم اقامت کی آواز سنتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر حاضر ہوا کرو۔ انہوں نے (دوبارہ) عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے اور مسجد کے درمیان کھجور کے درخت اور جھاڑیاں ہیں اور میرا کوئی مستقل قائد نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پھر) پوچھا: کیا تم اقامت سنتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر حاضر ہوا کرو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (گھر میں نماز کی) رخصت نہیں دی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 821]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 822
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي. وحدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا أبو خَليفة؛ قالا: حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حمّاد، عن عاصم بن بَهدَلة، عن أبي رَزيِنٍ، عن ابن أمِّ مكتوم: أنه سأل النبيَّ ﷺ فقال: يا رسول الله، إنِّي رجلٌ ضريرُ البصر، شاسعُ الدار، وليس لي قائدٌ يُلائمني، فهل لي رُخصةٌ أن أصلِّيَ في بيتي؟ قال:"هل تسمعُ النِّداء؟" قال: نعم، قال:"لا أجدُ لك رخصةً" (2) .
سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! میں بصارت سے محروم ہوں، میرا گھر دور ہے اور میرا کوئی ایسا قائد نہیں ہے جو میرے موافق ہو، تو کیا مجھے گھر میں نماز پڑھنے کی رخصت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم اذان سنتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے لیے کوئی رخصت نہیں پاتا۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس کا شاہد عاصم بن بہدلہ کی روایت سے بھی موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 822]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں