🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

66. كَانَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سَجَدَ ضَمَّ أَصَابِعَهُ
رسولُ اللہ ﷺ جب سجدہ کرتے تو آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آتی تھی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 926
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا عَبْد الله بن عبد الله بن الأصَمِّ، عن عمِّه يزيد بن الأصمِّ، عن أبي هريرة قال: كان رسول الله ﷺ إذا سَجَدَ رُئِيَ وَضَحُ إِبْطَيه (1) .
هذا حديث صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه. ورواه ابن عُيَينة، فخالف عبدَ الواحد فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 830 - على شرطهما
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی صاف نظر آتی تھی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 926]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 927
حدَّثَناه علي بن عيسى، حدثنا أحمد بن نَجْدة، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا سفيان، عن ابن الأصمِّ، عن عمِّه، عن ميمونةَ قالت: كان رسول الله ﷺ إذا سجد لو شاءت بَهْمةٌ أن تمرَّ بين يديه لمرَّت (2) .
ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ فرماتے تو (اپنے بازو اتنے پھیلاتے) کہ اگر بکری کا کوئی بچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کے نیچے سے گزرنا چاہتا تو گزر سکتا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 927]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 928
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا أبو بكر محمد بن عيسى الطَّرَسُوسي، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا يحيى بن أيوب، حدثني عُمَارة بن غَزِيَّة قال: سمعت أبا النَّضْر يقول: سمعت عُرْوةَ بن الزُّبير يقول: قالت عائشة زوجُ النبي ﷺ: فَقَدتُ رسولَ الله ﷺ وكان معي على فِراشي، فَوَجَدتُه ساجدًا راصًّا عَقِبَيهِ مستقبِلًا بأطراف أصابعه القِبلَة، فسمعته يقول:"أعوذُ برِضاكَ من سَخَطِك، وبعَفْوِك من عقوبتِك، وبك منك، أُثْني عليك لا أَبْلُغُ كل ما فيك" فلما انصرف قال:"يا عائشة، أخَذَكِ شيطانُك" فقلت: أمَا لك شيطان؟ قال:"ما من آدميٍّ إلَّا له شيطانٌ" فقلت: وأنت يا رسول الله؟ قال:"وأنا، لكنِّي دَعَوتُ اللهَ عليه فأسلَمَ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، لا أعلمُ أحدًا ذكر ضمَّ العَقِبين في السجود غيرَ ما في هذا الحديث.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 832 - على شرطهما
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بستر پر میرے ساتھ تھے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پایا، میں نے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی حالت میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایڑیاں آپس میں ملائی ہوئی تھیں اور آپ کی مبارک انگلیوں کے سرے قبلہ رخ تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پڑھتے سنا: «أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِعَفْوِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَبِكَ مِنْكَ، أُثْنِي عَلَيْكَ لَا أَبْلُغُ كُلَّ مَا فِيكَ» "(اے اللہ!) میں تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضگی سے، اور تیرے عفو کے ذریعے تیری سزا سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور تجھ سے تیری ہی پناہ چاہتا ہوں، میں تیری ویسی تعریف نہیں کر سکتا جیسی تو نے خود اپنی فرمائی ہے۔" جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: "اے عائشہ! تمہارا شیطان تمہارے پاس آ گیا تھا۔" میں نے عرض کیا: کیا آپ کے ساتھ شیطان نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان ہوتا ہے۔" میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا آپ کے ساتھ بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں، لیکن میں نے اس کے خلاف اللہ سے دعا کی تو وہ مسلمان ہو گیا۔"
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ سجدے میں ایڑیاں ملانے کا ذکر صرف اسی روایت میں ملتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 928]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں