المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
109. خُطْوَتَانِ أَحَدُهُمَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ وَالْأُخْرَى أَبْغَضُ الْخُطَا إِلَى اللَّهِ
دو قدم ایسے ہیں: ایک اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے اور دوسرا اللہ کو سب سے زیادہ ناپسند ہے۔
حدیث نمبر: 1021
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو عُتْبة أحمد بن الفَرَج، حدثنا بَقيَّة بن الوليد، حدثنا بَحِير بن سَعْد (1) ، عن خالد بن مَعْدانَ، عن معاذ بن جَبَل، عن النبي ﷺ قال:"خَطْوتانِ إحداهما أحبُّ إلى الله، والأخرى أبغضُ الخُطَا إلى الله، فأما الخَطْوةُ التي يحبُّها، فرجلٌ نَظَرَ إلى خَلَلٍ في الصف فسَدَّه، وأما التي يُبغِضُ اللهُ، فإذا أراد الرجل أن يقومَ مَدَّ رجلَه اليمنى ووَضَعَ يدَه عليها، وأثبَتَ اليسرى ثم قام" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتَجَّ ببقيَّةَ في الشواهد، ولم يُخرجاه. فأما بقيةُ بن الوليد فإنه إذا روى عن المشهورين، فإنه مأمونٌ مقبول.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1008 - لا فإن خالدا عن معاذ منقطع
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتَجَّ ببقيَّةَ في الشواهد، ولم يُخرجاه. فأما بقيةُ بن الوليد فإنه إذا روى عن المشهورين، فإنه مأمونٌ مقبول.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1008 - لا فإن خالدا عن معاذ منقطع
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو قدم ایسے ہیں جن میں سے ایک اللہ کو بہت پسند ہے اور دوسرا اللہ کے نزدیک قدموں کی سب سے ناپسندیدہ قسم ہے، رہا وہ قدم جسے اللہ پسند فرماتا ہے تو وہ اس شخص کا ہے جو صف میں خالی جگہ دیکھے اور اسے پُر کر دے، اور وہ قدم جس سے اللہ بغض رکھتا ہے وہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص (سجدے سے) کھڑے ہونے کا ارادہ کرے تو اپنا دایاں پاؤں پھیلائے اور اس پر اپنا ہاتھ رکھ کر (بائیں پاؤں کو جما کر) کھڑا ہو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے بقیہ (بن ولید) سے شواہد میں احتجاج کیا ہے، تاہم شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور بقیہ بن ولید جب مشہور اساتذہ سے روایت کریں تو وہ قابلِ اعتماد اور مقبول ہوتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 1021]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے بقیہ (بن ولید) سے شواہد میں احتجاج کیا ہے، تاہم شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور بقیہ بن ولید جب مشہور اساتذہ سے روایت کریں تو وہ قابلِ اعتماد اور مقبول ہوتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 1021]
حدیث نمبر: 1022
حدثنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شُعبة. وأخبرنا أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عفَّان وأبو عمرو مسلم بن إبراهيم وعلي بن الجَعْد، قالوا: حدثنا شعبة، عن سَلَمة بن كُهَيل وزُبَيد، عن ابن عبد الرحمن بن أَبْزَى، عن أبيه: أنَّ النبي ﷺ كان إذا سَلَّمَ قال:"سبحانَ الملِكِ القُدُّوس" ثلاثًا، يرفع صوتَه (3) . عبد الرحمن بن أَبزَى ممن صحَّ عندنا أنه صلَّى مع النبي ﷺ، إلّا أنَّ أكثر روايته عن أُبيِّ بن كعب والصحابة، وهذا الإسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1009 - والحديث صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1009 - والحديث صحيح
سیدنا عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب (نماز سے) سلام پھیرتے تو بلند آواز سے تین مرتبہ فرماتے: «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» ”پاک ہے وہ ذات جو بادشاہ ہے اور ہر عیب سے مبرا ہے۔“
عبدالرحمن بن ابزی ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں ہمارے نزدیک یہ صحیح ثابت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے، اگرچہ ان کی زیادہ تر روایات سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ سے ہیں، اور یہ سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 1022]
عبدالرحمن بن ابزی ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں ہمارے نزدیک یہ صحیح ثابت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے، اگرچہ ان کی زیادہ تر روایات سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ سے ہیں، اور یہ سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 1022]