🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. الْأَمْرُ بِكَثْرَةِ الصَّلَاةِ فِي الْجُمُعَةِ
جمعہ کے دن کثرت سے درود پڑھنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1042
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو جعفر أحمد بن عبد الحميد الحارثي، حدثنا الحسين بن علي الجُعْفي، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، عن أبي الأشْعَث الصَّنعاني، عن أوس بن أوس الثَّقَفي قال: قال لي رسولُ الله ﷺ:"إنَّ من أفضلِ أيامِكم يومَ الجُمُعة، فيه خُلِق آدمُ، وفيه قُبِض، وفيه النَّفخةُ، وفيه الصَّعْقة، فأكثِروا عليَّ من الصلاة فيه، فإنَّ صلاتكم معروضةٌ عليَّ" قالوا: وكيف تُعرَض صلاتُنا عليك وقد أَرَمْتَ؟ فقال:"إنَّ الله ﷿ قد حرَّم على الأرض أن تأكلَ أجسادَ الأنبياءِ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1029 - على شرط البخاري
سیدنا اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تمہارے بہترین دنوں میں سے ایک جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے، اسی میں ان کی روح قبض کی گئی، اسی میں صور پھونکا جائے گا اور اسی میں سخت آواز (صعقہ) ہوگی، لہٰذا اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارا درود آپ کے سامنے کیسے پیش کیا جائے گا جبکہ آپ (کی ہڈیاں) بوسیدہ ہو چکی ہوں گی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ عزوجل نے زمین پر انبیاء کے جسموں کو کھانا حرام کر دیا ہے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجُمُعَةِ/حدیث: 1042]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1043
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الرَّبيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، أخبرنا مالك. وحدثنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى البِرْتي وإسماعيل بن إسحاق القاضي، قالا: حدثنا القَعْنَبي، عن مالك. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن، عن مالك، عن يزيد بن عبد الله بن الهاد، عن محمد بن إبراهيم التَّيمي، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"خيرُ يومٍ طَلَعَتْ فيه الشمس يومُ الجمعة، فيه خُلقَ آدم، وفيه أُهبِط، وفيه تِيبَ عليه، وفيه مات، وفيه تقوم الساعةُ، وما من دابةٍ إلّا وهي مُصِيخةٌ يومَ الجمعة مِن حينِ تُصبِحُ حتى تَطلُعَ الشمسُ، شَفَقًا من الساعة إلّا الجنَّ والإنسَ، وفيها ساعةٌ لا يُصادِفُها عبدٌ مسلمٌ وهو يُصلِّي يسأل اللهَ شيئًا، إلّا أعطاه إياه". قال كعب: ذلك في كلِّ سنةٍ يومٌ، فقلت: بل في كلِّ جمعة، قال: فقرأ كعبٌ التوراةَ، فقال: صدق رسولُ الله ﷺ. قال أبو هريرة: ثم لقيتُ عبدَ الله بن سَلَام فحدَّثتُه بمجلسي مع كعب، فقال عبد الله بن سَلَام: قد علمتُ أيَّةَ ساعة هي، قال أبو هريرة: فقلت له: فأخبِرْني بها؟ فقال عبدُ الله بنُ سَلَام: هي آخر ساعةٍ في يوم الجمعة، فقلت: كيف هي آخرُ ساعة في يومِ الجمعة وقد قال رسول الله ﷺ:"لا يُصادِفُها عبدٌ مسلم وهو يصلِّي"، وتلك الساعة لا يُصلَّى فيها؟ فقال عبد الله بن سَلَام: ألم يقل رسول الله ﷺ:"مَن جَلَس مجلسًا ينتظرُ الصلاةَ، فهو في صلاةٍ حتى يُصلِّيَ"؟! (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، إنما اتفقا على أحرفٍ من أوله في حديث الأعرج عن أبي هريرة:"خيرُ يومٍ طلعت فيه الشمسُ يوم الجمعة" (1) . وقد تابع محمدُ بنُ إسحاق يزيدَ بنَ الهاد على روايته عن محمد بن إبراهيم التَّيمي بالزيادات فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1030 - على شرطهما
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوا وہ جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے، اسی میں وہ (زمین پر) اتارے گئے، اسی میں ان کی توبہ قبول ہوئی، اسی میں ان کی وفات ہوئی، اور اسی دن قیامت قائم ہوگی، اور ہر جانور جمعہ کے دن صبح سے لے کر سورج طلوع ہونے تک قیامت کے خوف سے کان لگائے (ڈر رہا) ہوتا ہے سوائے جن اور انسان کے، اور اس دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان بندہ اسے پا لے اور وہ نماز پڑھتے ہوئے اللہ سے کسی چیز کا سوال کر رہا ہو تو اللہ اسے وہ ضرور عطا فرماتا ہے۔ کعب احبار نے کہا: یہ سال میں کسی ایک دن ہوتا ہے، تو میں نے کہا: نہیں بلکہ یہ ہر جمعہ میں ہوتا ہے، پھر کعب نے تورات پڑھی تو کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں عبداللہ بن سلام سے ملا اور انہیں کعب کے ساتھ اپنی گفتگو کے بارے میں بتایا تو عبداللہ بن سلام نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ وہ کون سی گھڑی ہے، ابوہریرہ کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا: مجھے وہ گھڑی بتا دیں؟ تو عبداللہ بن سلام نے کہا: وہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہے، میں نے کہا: وہ آخری گھڑی کیسے ہو سکتی ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ وہ اسے اس حال میں پائے کہ وہ نماز پڑھ رہا ہو، اور اس وقت تو نماز نہیں پڑھی جاتی؟ تو عبداللہ بن سلام نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا رہے وہ نماز ہی میں ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ نماز پڑھ لے؟!
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، ان دونوں نے صرف اس کے ابتدائی کلمات پر اتفاق کیا ہے جو الاعرج کی روایت میں ابوہریرہ سے مروی ہیں کہ بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوا وہ جمعہ ہے، اور محمد بن اسحاق نے یزید بن الہاد کی متابعت کی ہے جس میں مزید تفصیلات بھی مذکور ہیں: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجُمُعَةِ/حدیث: 1043]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں