🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. دُعَاءُ الِاسْتِسْقَاءِ وَصَلَاتُهُ
نمازِ استسقاء کی دعا اور اس کی نماز کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1240
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثنا هارون بن سعيد الأَيْلي، حدثني خالد بن نِزَار، حدثنا القاسم بن مبرور، عن يونس بن يزيد، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: شكا الناسُ إلى رسول الله ﷺ قُحُوطَ المطر، فأمر بمِنبَر فوضع له في المصلَّى، ووَعَدَ الناس يومًا يخرُجون فيه، قالت عائشة: فخرج رسول الله ﷺ حين بَدَا حاجبُ الشمس، فقعد على المِنبَر فكبَّر وحَمِدَ الله ثم قال:"إنكم شَكَوتم جَدْبَ ديارِكم، واستِئخارَ المطرِ عن إبّانِ زمانِه، وقد أَمَرَكم الله أن تَدْعُوه، ووَعَدَكم أن يستجيبَ لكم" ثم قال:" ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (2) الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (3) مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾، لا إله إلا الله، يَفعلُ ما يريد، اللهم أنتَ الله لا إله إلّا أنتَ الغنيُّ ونحن الفقراء، أنزِلْ علينا الغَيْث، واجعلْ ما أنزلتَ لنا قوةً وبَلاغًا إلى حِين"، ثم رَفَعَ يديه، فلم يَزَلْ في الرفع حتى بَدَا بياضُ إبْطَيه، ثم حوَّل إلى الناس ظَهرَه وقَلَبَ - أو حوَّل - رِداءَه وهو رافعٌ يديه، ثم أقبَلَ على الناس ونَزَلَ فصلى ركعتين، فأنشأَ الله سحابًا فرَعَدَتْ وبَرَقَتْ، ثم أمطَرَتْ بإذن الله، فلم يأتِ مسجدَه حتى سالتِ السُّيول، فلمَّا رأى سُرعتَهم إلى الكِنِّ ضَحِكَ حتى بَدَتْ نواجِذُه، فقال:"أشهدُ أن الله على كل شيءٍ قدير، وأني عبدُ الله ورسولُه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش نہ ہونے کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منبر کا حکم دیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عیدگاہ میں رکھ دیا گیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے ایک دن کا وعدہ کیا جس میں وہ سب نکلیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نکلے جب سورج کا کنارہ ظاہر ہوا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے، اللہ کی تکبیر اور حمد بیان کی پھر فرمایا: تم نے اپنے علاقوں کی قحط سالی اور بارش کے اپنے مقررہ وقت سے تاخیر کی شکایت کی ہے، اور بے شک اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم اس سے دعا کرو اور اس نے تم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلَى حِينٍ» سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا ہے، جزا کے دن کا مالک ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اے اللہ! تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو غنی ہے اور ہم محتاج ہیں، ہم پر بارش نازل فرما اور جو کچھ تو ہم پر نازل فرمائے اسے ہمارے لیے ایک مدت تک قوت اور پہنچنے کا ذریعہ بنا دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور انہیں اتنی دیر تک اٹھائے رکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف اپنی پیٹھ پھیر لی اور اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہی اپنی چادر کو پلٹا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور نیچے اترے اور دو رکعت نماز پڑھائی، پس اللہ تعالیٰ نے بادل پیدا کیے جن میں گرج اور چمک تھی، پھر اللہ کے حکم سے بارش ہوئی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی اپنی مسجد تک نہیں پہنچے تھے کہ نالے بہہ نکلے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو سائے کی طرف جلدی بھاگتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دانت ظاہر ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے، اور بے شک میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الِاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 1240]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 1240] [ترقيم الشركة 1229]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1241
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا وَهْب بن جَرِير، حدثنا شُعبة. وأخبرني عبد الرحمن بن الحُصَين القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مُرَّة، عن سالم بن أبي الجعد، عن شُرَحْبيل بن السِّمْط، أنه قال لكعب بن مُرَّة أو مُرَّة بن كعب: حدِّثنا حديثًا سمعتَه من رسول الله ﷺ، قال: سمعت رسول الله ﷺ دعا على مُضَر، فأتيته فقلت: يا رسول الله، إنَّ الله قد أعطاك واستجاب لك، وإنَّ قومَك قد هلكوا، فادْعُ الله لهم، فقال:"اللهمَّ اسقنا غيثًا مُغيثًا، مَريئًا سريعًا، غَدَقًا طَبَقًا، عاجلًا غيرَ رائثٍ، نافعًا غيرَ ضارّ"، فما كانت إلّا جمعةٌ أو نحوُها حتى سُقُوا (1) .
هذا حديث صحيح إسناده على شرط الشيخين، فإنّ بهزَ بن أسَد العَمِّي الثقة الثَّبْت قد رواه عن شعبة بإسناده عن مُرَّةَ بن كعب ولم يَشُكَّ فيه، ومُرَّة بن كعب البَهْزيّ صحابيٌّ مشهور:
سالم بن ابی جعد، شرحبیل بن سمط سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کعب بن مرہ یا مرہ بن کعب سے کہا: ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کریں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبیلہ مضر کے خلاف بددعا کرتے ہوئے سنا، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یقیناً اللہ تعالیٰ نے آپ کو (بہت کچھ) عطا فرمایا ہے اور آپ کی دعا قبول فرمائی ہے، اور (اس وقت) آپ کی قوم ہلاک ہو رہی ہے، پس آپ ان کے لیے اللہ سے دعا فرمائیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بارش کے لیے) دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا، مَرِيئًا سَرِيعًا، غَدَقًا طَبَقًا، عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ» اے اللہ! ہمیں ایسی بارش عطا فرما جو فریاد رس ہو، خوشگوار ہو اور جلد برسنے والی ہو، موسلادھار ہو اور سب کو گھیر لینے والی ہو، جلدی آنے والی ہو تاخیر کرنے والی نہ ہو، نفع بخش ہو نقصان دہ نہ ہو۔ پس ایک جمعہ یا اس کے لگ بھگ ہی گزرا تھا کہ انہیں بارش عطا کر دی گئی۔
اس حدیث کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ بہز بن اسد عمی جو ثقہ اور ثبت ہیں، انہوں نے اسے شعبہ سے، انہوں نے اپنی سند کے ساتھ مرہ بن کعب سے روایت کیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کیا، اور مرہ بن کعب بہزی مشہور صحابی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الِاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 1241]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، سالم بن أبي الجعد لم يسمع من شرحبيل بن أبي السمط» [ترقيم الرساله 1241] [ترقيم الشركة 1230]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1242
حدَّثَناه أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا محمد بن محمد بن سليمان، حدثنا عليُّ بن عبد الله المَديني، حدثنا بَهْزُ بن أسد، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مُرَّة، عن سالم بن أبي الجعد، عن شُرَحْبيل بن السِّمْط، عن مُرَّة بن كعب: أنَّ رسول الله ﷺ دعا في الاستسقاء فقال:"اللهم اسقنا غيثًا مُغيثًا، مَريئًا سريعًا، غَدَقًا طَبَقًا، عاجلًا غير رائثٍ، نافعًا غيرَ ضارّ"، فما كانت إلّا جمعةٌ أو نحوُها حتى سُقُوا (1) . آخر كتاب الاستسقاء [من كتاب الكسوف]
شرحبیل بن سمط، مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز استسقاء میں یہ دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا، مَرِيئًا سَرِيعًا، غَدَقًا طَبَقًا، عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ» اے اللہ! ہمیں ایسی بارش عطا فرما جو فریاد رس ہو، خوشگوار ہو اور جلد برسنے والی ہو، موسلادھار ہو اور سب کو گھیر لینے والی ہو، جلدی آنے والی ہو تاخیر کرنے والی نہ ہو، نفع بخش ہو نقصان دہ نہ ہو۔ پس ایک جمعہ یا اس کے لگ بھگ ہی گزرا تھا کہ انہیں بارش عطا کر دی گئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الِاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 1242]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه» [ترقيم الرساله 1242] [ترقيم الشركة 1231]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں