سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب مَتَى تُؤَدَّى
باب: صدقہ فطر کب دیا جائے؟
حدیث نمبر: 1610
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ"، قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُؤَدِّيهَا قَبْلَ ذَلِكَ بِالْيَوْمِ وَالْيَوْمَيْنِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ صدقہ فطر لوگوں کے نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے، راوی کہتے ہیں: چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز عید کے ایک یا دو دن پہلے صدقہ فطر ادا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1610]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ فطر کے متعلق حکم فرمایا تھا کہ ”اسے لوگوں کے نماز عید کی طرف جانے سے پہلے پہلے ادا کر دیا جائے“۔ (نافع نے) کہا: ”سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اسے عید سے ایک دو دن پہلے ہی ادا کر دیا کرتے تھے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1610]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 76 (1509)، صحیح مسلم/الزکاة 5 (986)، سنن الترمذی/الزکاة 36 (677)، سنن النسائی/الزکاة 45 (2522)، (تحفة الأشراف:8452)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/151، 155) (صحیح) دون فعل ابن عمر»
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون فعل ابن عمر ولـ خ نحوه
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1509) صحيح مسلم (986)