المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
41. ذِكْرُ شَهَادَةِ حَمْزَةَ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ
سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت اور ان پر نماز پڑھنے کا ذکر۔
حدیث نمبر: 1367
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن إسحاق بن إبراهيم العدلُ ببغداد، حدثنا عبد الله بن رَوْح المَدائني، حدثنا عثمان بن عمر. وأخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا رَوْح بن عُبادة، قالا: حدثنا أسامة بن زيد، عن الزُّهري، عن أنسٍ، قال: لما كان يومُ أُحدٍ، مرَّ رسول الله ﷺ بحمزةَ بنِ عبد المطلب وقد جُدِعَ ومُثِّلَ [به] (2) ، فقال:"لولا أن تَجِدَ صفيّةُ تركتُه حتى يَحشُرَه الله من بُطون الطير والسِّباع"، فكفَّنه في نَمِرةٍ إذا خُمِّر رأسُه بَدَتْ رِجْلاه، وإذا خُمِّرت رجلاه بَدَا رأسُه، فخَمَّر رأسَه، ولم يُصلِّ على أحدٍ من الشهداء غيرِه، وقال:"أنا شاهدٌ عليكم اليومَ"، وكان يَجمَع الثلاثةَ والاثنين في قبرٍ واحدٍ، ويَسألُ:"أيُّهم أكثر قرآنًا؟" فيقدِّمُه في اللَّحْد، وكَفَّن الرَّجُلين والثلاثةَ في الثوب الواحد (1) .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب احد کا دن تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جبکہ ان کے کان ناک وغیرہ کاٹ کر ان کا مثلہ کر دیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر صفیہ (حمزہ کی بہن) کے رنجیدہ ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں اسی طرح چھوڑ دیتا یہاں تک کہ اللہ انہیں پرندوں اور درندوں کے پیٹ سے (قیامت کے دن) اٹھاتا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک کملی «نَمِرَةٍ» میں کفن دیا جس سے اگر سر ڈھانپا جاتا تو پاؤں کھل جاتے اور اگر پاؤں ڈھانپے جاتے تو سر کھل جاتا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا سر ڈھانپ دیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ کسی اور شہید پر نماز نہیں پڑھی، اور فرمایا: ”میں آج تم پر گواہ ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو اور تین افراد کو ایک ہی قبر میں جمع فرما دیتے تھے اور دریافت فرماتے: ”ان میں سے کسے قرآن زیادہ یاد ہے؟“ تو اسے لحد میں آگے رکھتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو اور تین آدمیوں کو ایک ہی کپڑے میں کفن دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1367]