المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
60. كَانَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَزُورُ قَبْرَ عَمِّهَا حَمْزَةَ كُلَّ جُمُعَةٍ، وَسُنِّيَّةُ زَيَارَةِ الْقُبُورِ
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہر جمعہ اپنے چچا سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبر کی زیارت کرتی تھیں، اور قبروں کی زیارت کی سنت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1412
حدثنا أبو حُمَيد أحمد بن محمد بن حامد العَدْل بالطَّابَران، حدثنا تَمِيم بن محمد، حدثنا أبو مُصعَب الزُّهري، حدثني محمد بن إسماعيل بن أبي فُدَيك، أخبرني سليمان بن داود، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن علي بن الحسين، عن أبيه: أنَّ فاطمة بنت النبي ﷺ كانت تَزورُ قبرَ عمِّها حمزةَ كلَّ جُمعةٍ، فتصلِّي وتبكي عنده (2) . هذا الحديث رواتُه كلُّهم ثقات. وقد استَقصَيتُ في الحثِّ على زيارة القُبور تحرِّيًا للمشاركة في الترغيب، ولِيعلَمَ الشَّحيحُ بدِينِه أنها سُنةٌ مسنونة. وصلى الله على محمدٍ وآله أجمعين.
سیدنا علی بن حسن رضی اللہ عنہما اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہر جمعہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حمزہ کی قبر کی زیارت کے لیے جاتی تھیں، آپ نماز بھی پڑھتی اور آپ قبر کے پاس روتی بھی تھیں۔ ٭٭ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں: اور میں زیارت قبور کی ترغیب دلانے میں بہت گہرائی میں اترا ہوں ترغیب میں شریک ہونے کی سوچ بچار کرتے ہوئے۔ تاکہ بخیل اپنی غلطی پر آگاہ ہو اور اسے پتہ چل جائے کہ یہ سنت مسنونہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1412]
حدیث نمبر: 1413
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدثنا الحسن بن سلَّام، حدثنا يونس بن محمد، حدثنا حَرْب بن ميمون، عن النَّضْر بن أنس، عن أنسٍ، قال: كنتُ قاعدًا مع النبي ﷺ فمُرَّت بجنازةٍ (1) فقال:"ما هذه الجنازةُ؟" قالوا: جنازةُ فلانٍ الفُلاني، كان يحبُّ اللهَ ورسولَه، ويَعمَلُ بطاعة الله، ويَسعَى فيها، فقال:"وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ"، ومرَّت بجنازةٍ أخرى، فقال:"ما هذه الجنازةُ؟" قالوا: جنازةُ فلانٍ الفُلاني، كان يُبغِضُ اللهَ ورسولَه، ويَعملُ بمعصيةِ الله، ويسعى فيها، فقال:"وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ"، قالوا: يا رسولَ الله، قولك في الجنازة والثناءِ عليها، أُثنيَ على الأَوّل خيرٌ وعلى الآخَرِ شَرٌّ، فقلتَ فيها:"وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ"! فقال:"نعم يا أبا بكر، إنَّ للهِ ملائكةً تَنطِقُ على أَلسنةِ بني آدمَ بما في المرءِ من الخيرِ والشَّر" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں بیٹھا ہوا تھا، تو آپ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بتایا: یہ فلاں شخص کا جنازہ ہے جو کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کیا کرتا تھا اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کیا کرتا تھا اور اس میں کوشش کیا کرتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی (اس کے بعد) ایک اور جنازہ گزرا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بتایا کہ یہ فلاں شخص کا جنازہ ہے جو کہ اللہ اور اس کے رسول سے بغض رکھتا تھا اور بدعمل تھا اور اسی میں کوشش کیا کرتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو پہلے جنازہ کے متعلق اچھائی بیان کی گئی تو آپ نے فرمایا ” وجبت “ (یعنی واجب ہو گئی) اور دوسرے کے متعلق برائی بیان کی گئی تو بھی آپ نے فرمایا ” وجبت “ (یعنی واجب ہو گئی) اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! ہاں، بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو بنی آدم کی زبانوں پر انسان میں پائی جانے والی اچھی یا بری خصلت جاری کر دیتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1413]