المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
26. خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى
سب سے بہتر صدقہ وہ ہے جو مال داری کے باوجود دیا جائے۔
حدیث نمبر: 1521
أخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حمَّاد، عن محمد بن إسحاق، عن عاصم بن عُمر بن قتادة، عن محمود بن لبيد، عن جابر بن عبد الله الأنصاري قال: كنا عند رسول الله ﷺ إذ جاء رجل بمثل بَيضةٍ من ذهب، فقال: يا رسول الله، أصبتُ هذه من مَعدِنٍ، فخُذْها فهي صدقةٌ، ما أملِكُ غيرَها، فأعرَضَ عنه رسول الله ﷺ، ثم أتاه من قِبَل رُكْنِه الأيمن، فقال مثلَ ذلك، فأعرَضَ عنه، ثم أتاه من رُكنِه الأيسر، فأعرَضَ عنه رسول الله ﷺ، ثم أتاه من خَلْفِه، فأخذها رسولُ الله ﷺ فحَذَفَه بها، فلو أصابته لأوجَعَتْه ولَعَقَرتْه، فقال رسول الله ﷺ:"يأتي أحدُكم بما يَملِكُ فيقول: هذه صدقةٌ، ثم يقعُدُ يَستكِفُّ الناسَ، خيرُ الصَّدقةِ ما كان عن ظَهْرِ غِنًى" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک شخص آپ کے پاس سونے کی انڈا نما ایک چیز لے کر آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ مجھے معدن سے ملا ہے۔ یہ آپ لے لیجیے کیونکہ یہ صدقہ ہے۔ اور میرے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے منہ پھیر لیا۔ وہ شخص آپ کی دائیں جانب سے دوبارہ آپ کے سامنے آیا اور اسی طرح پھر عرض کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ موڑ لیا، وہ پھر آپ کی بائیں جانب سے آپ کے سامنے آیا، آپ نے پھر منہ پھیر لیا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سے آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وہ چیز لے کر پھینک دی۔ (آپ نے اتنے زور سے وہ چیز پھینکی تھی کہ) اگر وہ اس کو لگ جاتی تو اس کو زخم بھی آتا اور درد بھی ہوتا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اپنی جمع پونجی لے کر آتا ہے اور صدقہ کر دیتا ہے پھر وہ بیٹھ کر دوسرے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے۔ بہترین صدقہ وہ ہے جو غنی ہو کر دیا جائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1521]
حدیث نمبر: 1522
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العدل، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، عن ابن عَجْلان، عن عياض بن عبد الله بن سعد، سمع أبا سعيدٍ الخُدْريَّ يقول: دخلَ رجلٌ المسجد، فأمر النبيُّ ﷺ أن يَطْرَحُوا له ثيابًا، فَطَرَحُوا له، فأمر فيها بثوبين، ثم حثَّ على الصدقة فجاء فَطَرَح الثوبين، فصاح به وقال:"خُذْ ثَوبَيكَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص مسجد میں آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس شخص کے لیے کپڑے صدقہ کرو تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کے لیے کپڑے صدقہ کیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے دو کپڑے اس کو دینے کا حکم دیا پھر آپ نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دلائی۔ وہ شخص آیا اور ان دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا وہاں ڈال گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلا کر اس کا کپڑا اس کو واپس کر دیا۔ (کیونکہ وہ تو خود غریب تھا)۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1522]