المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
14. رُخْصَةُ الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ
روزہ دار کے لیے پچھنا لگوانے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1581
كما حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى البِرْتي، حدثنا أبو مَعمَر، حدثنا عبد الوارث، عن أيوب، عن عِكرمة، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ احتَجَمَ وهو صائم (2) . فاسمع الآن كلامَ إمام أهل الحديث في عصره بلا مدافَعَة على هذا الحديث، لتستدلَّ به على أرشد الصواب.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کی حالت میں پچھنے لگوائے۔ ٭٭ اور اب اپنے زمانے کے امام المحدثین کا اس حدیث کے متعلق کلام سنئے، تاکہ اس کے ذریعے حقیقت تک رسائی ممکن ہو سکے۔ (امام حاکم فرماتے ہیں) ابوبکر بن جعفر المزکی، ابوبکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ احادیث ثابت ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنے لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ جاتا رہا۔ جبکہ بعض وہ لوگ جن کو اس مسئلہ میں ہمارے ساتھ اختلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ پچھنے لگانے کے عمل سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے ہیں۔ حالانکہ یہ حدیث اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ پچھنے لگوانے کا عمل مفطر صوم نہیں ہے کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دورانِ سفر حالتِ احرام میں پچھنے لگوائے، اقامت میں ایسا نہیں کیا، کیونکہ آپ اپنے شہر میں مقیم رہتے ہوئے کبھی بھی محرم نہیں ہوئے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی محرم ہوئے، حالتِ سفر میں ہی ہوئے، اور مسافر اگرچہ روزہ کی نیت کر چکا ہو اور اس پر دن کا بعض وقت گزر بھی چکا ہو اور اس کے باوجود اس کے لیے کھانا پینا جائز ہے اگرچہ اس طرح کھانے پینے سے اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔ اور وہ بات درست نہیں ہے جس کا بعض علماء کو وہم ہوا ہے کہ مسافر نے جب روزہ شروع کر دیا، اس کو پورا کرنا ضروری ہو جاتا ہے اور اس کو توڑ نہیں سکتا۔ اور جب مسافر کے لیے روزہ شروع کرنے کے باوجود، اس کی نیت کرنے کے باوجود اور دن کا کچھ وقت گزر جانے کے باوجود، عین روزے کی حالت میں اس کے لیے اکل و شرب (یعنی کھانا و پینا) حلال ہے تو اسی طرح روزہ دار کے لیے دن کا کچھ وقت گزر جانے کے بعد پچھنے لگوانا بھی حلال ہو گا۔ اگرچہ پچھنے لگوانے سے اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔ جس طرح روزہ کی حالت میں مسافر کے لیے کھانا پینا حلال ہے اگرچہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1581]
حدیث نمبر: 1582
سمعتُ أبا بكر بن جعفر المزكِّي يقول: سمعتُ أبا بكر محمدَ بن إسحاق بن خُزيمةَ يقول: قد ثبتت الأخبار عن النبي ﷺ أنه قال:"أفطَرَ الحاجِمُ والمحجوم"، فقال بعضُ من خالَفَنا في هذه المسألة: إنَّ الحِجامة لا تُفطِّر الصائم، واحتجَّ بأنَّ النبي ﷺ احتَجَم وهو صائمٌ مُحرِم، وهذا الخبر غير دالٍّ على أنَّ الحجامة لا تُفطِّر الصائم، لأنَّ النبي ﷺ إنما احتَجَم وهو صائمٌ محرمٌ في سفرٍ لا في حَضَر، لأنه لم يكن قطُّ مُحرِمًا مقيمًا ببلده، إنما كان مُحرِمًا وهو مسافر، والمسافر (1) وإن كان ناويًا للصوم وقد مضى عليه بعضُ النهار وهو صائمٌ (2) الأكلُ والشربُ، وإن كان الأكلُ والشربُ يفطِّرانه، لا كما توهَّم بعضُ العلماء أنَّ المسافر إذا دَخَلَ في الصوم لم يكن له أن يُفطِر إلى أن يُتمَّ صومَه ذلك اليومَ الذي دَخَلَ فيه، فإذا كان له أن يأكلَ ويشربَ وقد دخل في الصَّوم ونواهُ ومضى بعضُ النهار وهو صائمٌ، جاز له أن يَحتجِم وهو مسافرٌ في بعض نهار الصوم، وإن كانت الحِجامة تفطِّره.
0 [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1582]
حدیث نمبر: 1583
حدثنا أحمد بن كامل القاضي، حدثنا محمد بن سعد العَوْفي، حدثنا رَوْح بن عُبادةَ. وحدثنا علي بن عيسى، حدثنا أحمد بن النَّضْر بن عبد الوهاب. وحدثنا أبو الوليد الفقيه، حدثنا الحسن بن سفيان. وأخبرني أبو عليٍّ الحافظ، أخبرنا أبو يعلى؛ قالوا: حدثنا أبو خَيثَمة زُهير بن حرب، حدثنا رَوْح بن عُبادةَ، عن سعيد بن أبي عَرُوبةَ، عن مَطَر الورَّاق، عن بكر بن عبد الله المُزَني، عن أبي رافع قال: دخَلْنا على أبي موسى وهو يَحتجِمُ بعد المغرب، فقلت: ألا احتَجَمتَ نهارًا؟ فقال: تأمرُني أن أُهريقَ دمي وأنا صائم؟! سمعت رسول الله ﷺ يقول:"أفطَرَ الحاجمُ والمحجوم" (3)
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو وہ مغرب کے بعد پچھنے لگوا رہے تھے، میں نے ان سے کہا: آپ دن کے وقت پچھنے کیوں نہیں لگواتے؟ تو انہوں نے جواب دیا: کیا تم مجھے یہ حکم دے رہے ہو کہ میں روزہ کی حالت میں اپنا خون نکلواؤں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: پچھنے لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ ٭٭ (امام حاکم فرماتے ہیں) ابوعلی حافظ فرماتے ہیں: میں نے عبدان الاہوازی سے پوچھا: کیا یہ بات صحیح ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کی حالت میں پچھنے لگوائے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: عباس العنبری نے بتایا ہے کہ علی بن المدینی کا کہنا ہے کہ ابورافع کی ابوموسیٰ کے حوالے سے یہ حدیث صحیح کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنے لگانے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور اس باب میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پوری ایک جماعت سے مستقیم سندوں کے ہمراہ کئی احادیث مروی ہیں کہ اگر ان کو یہاں پر تفصیل سے لکھنا شروع کر دوں تو بہت زیادہ طوالت ہو جائے گی، مجھے ابوالحسن احمد بن محمد العنبری نے بتایا ہے کہ عثمان بن سعیدالدارمی کہا کرتے تھے: میرے نزدیک پچھنے لگوانے اور لگانے والے کے روزہ ٹوٹ جانے والی حدیث ثوبان اور شداد بن اوس کی روایت کی بناء پر صحیح ہے۔ اور میں اسی کا قائل ہوں اور میں نے امام احمد بن حنبل کو بھی یہی فرماتے ہوئے سنا ہے۔ اور یہ بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ ان کے نزدیک ثوبان اور شداد کی حدیث صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1583]
حدیث نمبر: 1583M1
سمعتُ أبا عليٍّ الحافظ يقول: قلتُ لعَبْدان الأهوازيِّ: صحَّ أنَّ النبيَّ ﷺ احتَجَم وهو صائم؟ فقال: سمعتُ عباس العَنْبريَّ يقول: سمعتُ عليَّ بن المَدِيني يقول: قد صحَّ حديثُ أبي رافع عن أبي موسى، أنَّ النبيَّ ﷺ قال:"أفطَرَ الحاجمُ والمحجوم" (1) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين ولم يُخرجاه. وفي الباب عن جماعة من الصحابة بأسانيد مستقيمة مما يطول شرحُه في هذا الموضع.
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين ولم يُخرجاه. وفي الباب عن جماعة من الصحابة بأسانيد مستقيمة مما يطول شرحُه في هذا الموضع.
0 [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1583M1]
حدیث نمبر: 1583M2
سمعت أبا الحسن أحمد بن محمد العَنَزي يقول: سمعتُ عثمان بنَ سعيد الدارميّ يقول: قد صحَّ عندي حديث"أفطَرَ الحاجم والمحجوم" لحديث ثَوْبانَ وشدّادِ بن أوس، وأقول به، وسمعتُ أحمد بن حنبل يقول به، ويَذكُر أنه صحَّ عنده حديثُ ثوبان وشداد.
0 [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1583M2]