المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
35. الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ يَمِينُ اللَّهِ الَّتِي صَافَحَ بِهَا خَلْقَهُ
حجرِ اسود اللہ کا دایاں ہاتھ ہے جس سے وہ اپنی مخلوق سے مصافحہ فرماتا ہے۔
حدیث نمبر: 1699
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد. وحدثنا أبو حفص عمر بن أحمد الفقيه ببُخارَى، حدثنا صالح بن محمد بن حَبِيب الحافظ، قالا: حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي، حدثنا عبد الله بن المُؤمَّل قال: سمعتُ عطاءً يحدِّث عن عبد الله بن عمرٍو، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"يأتي الرُّكنُ يوم القيامة أعظمَ من أبي قُبَيس، له لسانٌ وشَفَتانِ يتكلَّم عمَّن استَلَمَه بالنِّية، وهو يمينُ الله التي يُصافِح بها خَلْقَه" (1) . وقد روي لهذا الحديث شاهدٌ مفسَّر، غير أنه ليس من شرط الشيخين، فإنهما لم يحتجا بأبي هارون عُمارة بن جُوَين العَبْدي:
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن ” رکن “ کوہِ ابوقبیس سے بڑا ہو کر آئے گا، اس کی زبان اور ہونٹ ہوں گے اور یہ ان لوگوں کی شفاعت کرے گا جنہوں نے اچھی نیت سے اس کا استلام کیا ہو گا، اور یہ اللہ کا دایاں ہاتھ ہے جس کے ذریعے وہ اپنی مخلوق سے مصافحہ کرتا ہے۔ ٭٭ اس حدیث کی ایک مفسر شاہد حدیث بھی ہے۔ لیکن وہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے معیار پر نہیں ہے۔ کیونکہ انہوں نے ابوہارون عمارہ بن جوین عبدی کی روایات نقل نہیں کیں۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1699]
حدیث نمبر: 1700
أخبرَناه أبو محمد عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل من أصل كتابه حدثنا محمد بن صالح الكِيلِيني (2) ، حدثنا محمد بن يحيى بن أبي عمر العَدَني، حدثنا عبد العزيز بن عبد الصمد العَمِّي، عن أبي هارونَ العَبْدي، عن أبي سعيد الخُدْري قال: حَجَجْنا مع عمر بن الخطاب، فلمّا دَخَلَ الطوافَ استقبَلَ الحَجَرَ فقال: إنِّي أعلمُ أنك حَجَرٌ لا تَضَرُّ ولا تَنفَعُ، ولولا أنِّي رأيتُ رسول الله ﷺ قبَّلكَ ما قبَّلتُك. ثم قبَّله، فقال له عليُّ بن أبي طالب: بلى يا أميرَ المؤمنين، إنه يضُرُّ ويَنفعُ، قال: بِمَ قلتَ؟ قال: بكتاب الله ﵎، قال: وأينَ ذلك من كتاب الله؟ قال: قال الله ﷿: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى﴾ [الأعراف: 172] ، خَلَقَ الله آدمَ ومَسَحَ على ظهره، فقرَّرهم بأنه الربُّ وأنهم العَبيد، وأخذ عُهودَهم ومَوَاثِيقَهم، وكَتَبَ ذلك في رَقٍّ، وكان لهذا الحَجَرِ عينانِ ولسانٌ فقال له: افتحْ فاكَ، قال: فَفَتَحَ فاهُ فأَلقَمَه ذلك الرَّقَّ، وقال: اشْهَدْ لِمَن وافاكَ بالمُوافاةِ يومَ القيامة، وإنِّي أشهدُ لَسمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"يُؤتى يومَ القيامة بالحَجَر الأسود وله لسانٌ ذَلِقٌ يَشهدُ لمن يَستلمُه بالتوحيد"، فهو يا أميرَ المؤمنين يضرُّ ويَنفعُ، فقال عمر: أعوذُ بالله أن أعيشَ في قومٍ لستَ فيهم يا أبا حسن (1) .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ حج کے لیے گئے، جب ہم طواف کرنے لگے تو آپ حجر اسود سے مخاطب ہو کر کہنے لگے: میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، نہ تو نقصان دے سکتا ہے نہ فائدہ۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تیرا بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تیرا بوسہ نہ لیتا (یہ کہنے کے بعد) پھر آپ نے اس کا بوسہ لیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: اے امیرالمومنین! یہ فائدہ بھی دیتا ہے اور نقصان بھی۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی کتاب سے یہ بات ثابت ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کتاب اللہ کے کس مقام پر ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:” وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْم بَنِیْٓ ٰادَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ وَ اَشْھَدَھُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْآ بَلٰی “ (الاعراف: 172) ” اور اے محبوب یاد کرو جب تمہارے رب نے اولادِ آدم کی پشت سے ان کی نسل نکالی اور انہیں خود ان پر گواہ کیا، کیا میں تمہارا رب نہیں؟ سب بولے: کیوں نہیں۔ “ (، امام رضا) ٭٭ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا اور ان سے اپنی ربوبیت اور ان کی عبودیت کا اقرار کروایا اور ان سے پختہ عہد و پیمان لیے اور یہ معاہدہ ایک کھال پر لکھا اور اس پتھر کی آنکھیں اور زبان تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو کہا: اپنا منہ کھول! اس نے منہ کھولا! تو اللہ تعالیٰ نے یہ کھال اس کے منہ میں ڈال اس کو کھلا دی، پھر فرمایا: جو شخص تیرے ساتھ وعدہ پورا کرے تو قیامت کے دن اس کی وفاداری گواہی دینا (اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا) میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے کہ حجراسود کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور یہ بڑی فصیح و بلیغ آواز میں ان لوگوں کے لیے گواہی دے گا جنہوں نے توحید کے ساتھ اس کا استلام کیا ہو گا، اس لیے اے امیرالمومنین! یہ پتھر فائدہ بھی دیتا ہے اور نقصان بھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: اے ابوحسن! جس قوم میں تم نہ ہو، اس قوم میں زندگی گزارنے سے میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1700]