🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

45. مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يَعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ
عرفہ کے دن سے بڑھ کر کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالیٰ زیادہ بندوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1723
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مُنقِذ الخَوْلاني، حدثنا ابن وَهْب، عن مَخْرَمة بن بُكَير، عن أبيه قال: سمعتُ يونسَ بن يوسف يحدِّث عن سعيد بن المسيّب، عن عائشةَ زوجِ النبيّ ﷺ، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"ما مِن يومٍ أكثرَ مِن أن يُعتِقَ اللهُ فيه عبدًا من النار من يومِ عَرَفةَ، وإنَّه ليَدْنو ثم يُباهي الملائكةَ فيقول: ما أرادَ هؤلاءِ؟" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عرفہ کے دن سے زیادہ عظمت والا ایسا کوئی دن نہیں ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دوزخ سے آزاد کرتا ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ (بندوں کے) قریب ہوتا ہے پھر فرشتوں سے مخاطب ہو کر فخر سے فرماتا ہے: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1723]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1724
أخبرنا إسحاق بن محمد بن خالد الهاشمي بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزةَ الغِفَاري، حدثنا خالد بن مَخْلَد القَطَواني. وأخبرني أبو سعيد عبد الرحمن بن أحمد المؤذِّن، حدثنا محمد بن إسحاق الإمام، حدثنا علي بن مسلم، حدثنا خالد بن مَخْلَد، حدثنا علي بن مُسهِر (1) ، عن مَيسَرَةَ بن حبيب، عن المِنهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبير قال: كنا مع ابن عباسٍ بعَرفةَ فقال لي: يا سعيد، ما لي لا أسمعُ الناسَ يُلَبُّون؟ فقلت: يخافون من معاويةَ، قال: فخرج ابنُ عباس من فُسطاطِه فقال: لبَّيكَ اللهمَّ لبَّيك، فإنهم قد تَرَكوا السُّنةَ من بُغض عليٍّ ﵁ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ہمراہ عرفات میں تھے، انہوں نے مجھ سے کہا: اے سردار! کیا بات ہے؟ آج لوگوں کے تلبیہ کہنے کی آواز سنائی نہیں دے رہی؟ میں نے جواب دیا: لوگ معاویہ سے گھبرائے ہوئے ہیں۔ (اس لیے تلبیہ نہیں پڑھ رہے) آپ فرماتے ہیں: (یہ سن کر) ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنے خیمے سے باہر آئے اور بلند آواز سے تلبیہ لَبَّیْکَ اللّٰھُمَّ لَبَّیْک کہتے ہوئے فرمانے لگے: لوگوں نے علی کے بغض کی وجہ سے سنت کو چھوڑ رکھا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1724]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1725
حدثني أبو سعيد بن أبي بكر بن أبي عثمان، حدثنا الهَيثم بن خَلَف الدُّوري، حدثنا جميل بن الحسن الجَهْضَمي، حدثنا محبوب بن الحسن، حدثنا داود بن أبي هند، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رسولَ الله ﷺ وَقَفَ بعرفاتٍ، فلمّا قال:"لبَّيك اللهمَّ لبَّيك" قال:"إنّما الخيرُ خيرُ الآخرة" (1) . قد احتجَّ البخاريُّ بعِكرمة، واحتجَّ مسلم بداود، وهذا الحديث صحيح لم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں وقوف کیا، جب آپ تلبیہ کہتے تو فرماتے: بھلائی تو آخرت کی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری اور امام مسلم نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امام بخاری نے عکرمہ اور امام مسلم نے داؤد کی احادیث نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1725]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں