المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
67. طَوَافُ الْإِفَاضَةِ وَرَمْيُ الْجِمَارِ
طوافِ افاضہ اور جمرات کو کنکریاں مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1775
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو زُرعة عبد الرحمن بن عمرٍو الدِّمشقي، حدثنا أحمد بن خالد الوَهْبي، حدثنا محمد بن إسحاق، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن أبيه، عن عائشةَ قالت: أفاضَ رسولُ الله ﷺ من آخرِ يومِه حين صلَّى الظُّهر، ثم رَجَعَ فَمَكَثَ بمنًى لياليَ أيامِ التَّشريق يرمي الجَمْرةَ إذا زالت الشمسُ؛ كلَّ جمرةٍ بسبعِ حَصَياتٍ، يكبِّرُ مع كلِّ حصاةٍ، ويقف عند الأُولى وعند الثانية، فيُطيلُ القيامَ ويتضرَّعُ، ثم يرمي الثالثةَ ولا يقفُ عندها (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری دن ظہر کی نماز پڑھ کر طواف زیارت کیا پھر لوٹ آئے اور منٰی میں ایام تشریق کی تین راتیں ٹھہرے، جب سورج ڈھلتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمی فرماتے، ہر جمرہ کو سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری پھینکتے وقت تکبیر کہتے۔ پہلے اور دوسرے جمرہ کے پاس ٹھہرتے، وہاں طویل قیام کرتے اور خوب گڑگڑاتے پھر تیسرے جمرہ کی رمی کرتے لیکن اس کے پاس کھڑے نہ ہوتے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1775]
حدیث نمبر: 1776
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا يونس بن يزيد، عن الزُّهري: أنَّ رسولَ الله ﷺ كان إذا رَمَى الجَمْرة التي تلي مسجدَ مِنًى يرميها بسَبعِ حَصَياتٍ، يكبِّر كلَّما رَمَى بحصاةٍ، ثم تقدَّم أمامَها فوقفَ مُستقبِلَ البيتِ رافعًا يديه يدعو، وكان يُطيلُ الوقوف، ثم يأتي الجَمْرَة الثانية فيَرميها بسَبعِ حَصَياتٍ يُكبِّر كلَّما رمى بحصاةٍ، ثم يَنحدِر ذاتَ اليَسار مما يلي الوادي، فيقف مُستقبِلَ القِبلةِ رافعًا يديه، ثم يأتي الجَمْرةَ التي عند العَقَبة فيرميها بسَبعِ حَصَياتٍ يُكبِّر عند كلِّ حصاةٍ، ثم ينصرفُ ولا يقومُ عندها. قال الزُّهري: سمعتُ سالمَ بن عبد الله يحدِّث بمِثلِ هذا عن أبيه عن النبيِّ ﷺ. قال: وكان ابنُ عمر يفعلُه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
سیدنا زہری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رمی کرتے تو اس جمرہ سے آغاز کرتے جو منٰی میں مسجد سے متصل ہے، آپ اس کو سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کو مارتے ہوئے تکبیر کہتے پھر تھوڑا آگے کی جانب بڑھ کر قبلہ رو کھڑے ہو جاتے اور ہاتھ بلند کر کے دعا مانگا کرتے تھے اور آپ بہت دیر تک یہاں کھڑے رہتے پھر آپ دوسرے جمرہ کے پاس آتے، اس کو سات کنکریاں مارتے، ہر کنکری مارتے ہوئے تکبیر پڑھتے ہوئے پھر بائیں جانب ہٹ کر وادی کے ساتھ متصل قبلہ رو ہو کر ہاتھ بلند کیے بہت دیر تک کھڑے رہتے پھر اس جمرہ کے پاس آتے جو عقبہ کے قریب ہے، اس کو سات کنکریاں مارتے، ہر کنکری مارتے ہوئے تکبیر کہتے، پھر پلٹ جاتے اور اس کے پاس نہ ٹھہرتے۔ زہری فرماتے ہیں: میں نے سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی جیسی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے، آپ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اس کی طرف رخ کر کے کھڑے ہوتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1776]
حدیث نمبر: 1777
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن عبد الوهاب بن حَبِيب، حدثنا خالد بن مَخْلَد، حدثنا مالك بن أنس. وأخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا عبد الله بن مَسْلَمة، عن مالك، عن عبد الله بن أبي بكر. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن عبد الله بن أبي بكر، عن أبيه، عن أبي البَدَّاح بن عَدِيٍّ، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ رخَّص للرِّعاء أن يَرمُوا يومًا ويَدَعُوا يومًا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوالبداح بن عدی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو یہ رخصت دی تھی کہ وہ ایک دن رمی کریں اور دوسرے دن ناغہ کر لیں۔ ٭٭ ابوالبداح، عاصم بن عدی کے بیٹے ہیں اور یہ مشہور تابعین میں سے ہیں۔ اور یہ صاحبِ لعان تھے۔ اس لیے جس نے (اپنی سند میں) ” عن ابی البداح بن عَدِی “ کہا تو اس نے ان کے دادا کی طرف نسبت کی ہے اور درج ذیل حدیث سے اس کی صحت ثابت ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1777]
حدیث نمبر: 1778
حدَّثَناه أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم البُوشَنْجي، حدثنا أُميّة بن بِسْطامَ، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا رَوْح بن القاسم، عن عبد الله بن أبي بكر، عن أبيه، عن أبي البَدّاح بن عَدِي، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ رَخَّصَ للرِّعاءِ أن يَرمُوا الحِمارَ يومًا ويَدَعُوا يومًا (1) . أبو البَدّاح: هو ابن عاصم بن عَدِيّ، وهو مشهور في التابعين، وعاصمُ بن عَدِيّ مشهور في الصحابة، وهو صاحب اللِّعان، فمَن قال: عن أبي البداح بن عدي، فإنه نسبه إلى جدِّه. وبصحة ما ذكرتُه:
سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو (یہ) رخصت عطا فرمائی کہ وہ ایک دن کنکریاں ماریں (رامی کریں) اور ایک دن چھوڑ دیں (یعنی دو دن کی رامی ایک ساتھ کر لیں)۔ امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو البداح کا نام (درج اصل) ابن عاصم بن عدی ہے، وہ تابعین میں مشہور ہیں اور (ان کے والد) عاصم بن عدی صحابہ میں مشہور ہیں، وہی ’لعان‘ والے واقعے کے صاحب ہیں۔ پس جس نے (سند میں) "عن ابی البداح بن عدی" کہا، اس نے انہیں ان کے دادا کی طرف منسوب کیا ہے۔ اور جو کچھ میں نے اس کی صحت کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1778]
حدیث نمبر: 1779
حدَّثني أبو علي الحسن بن علي بن داود المصري بمكة، حدثنا أحمد بن محمد بن جَرير، حدثنا الحارث بن مِسْكين، حدثنا عبد الرحمن بن القاسم، حدثني مالك، عن عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، عن أبيه، أنَّ ابنَ عاصم بن عَدِيٍّ أخبره عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ رَخَّص لرِعاءِ الإبل في البَيتوتةِ يَرمُون يومَ النَّحر، ثم يَرمُون الغَدَ، أو من بعدِ الغَدِ ليومين، ثم يَرمُون يومَ النَّفْر (2) .
سیدنا ابنِ عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کے نگہبانوں کو رات گزارنے کی رخصت عنایت فرمائی کہ وہ نحر والے دن رمی کریں، پھر اگلے دن یا اس سے اگلے دن رمی کریں پھر روانگی کے دن رمی کریں۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1779]
حدیث نمبر: 1780
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، حدثنا بشر بن موسى، حدثنا الحسن بن موسى الأشْيَب، حدثنا زهير، عن أبي إسحاق، عن عَوْن بن أبي جُحَيفة، عن أبيه قال: رأيتُ رسولَ الله ﷺ صلَّى بالأبْطَحِ صلاةَ العصر ركعتَين (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے روایت کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مقامِ ابطح (مکہ اور منٰی کے درمیان ایک وادی) میں عصر کی دو رکعتیں پڑھتے دیکھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1780]