🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

81. فِي اشْتِرَاءِ بَقَرَةٍ لِلْهَدْيِ
قربانی کے لیے گائے خریدنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1805
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا عمرو بن ميمون بن مِهْران، حدثنا أبو حاضرٍ عثمان بن حاضرٍ قال: سمعتُ ابن عباس يقول: إنَّ أهل الحُدَيبيَةِ أُمِروا بإبدال الهَدْي في العام الذي دخلوا فيه مكة، فأبدَلوا، وعزَّتِ الإبلُ، فرُخِّصَ لهم فيمن لا يجدُ بَدَنةً في اشتِراءِ بقرة (1) . رواه محمد بن إسحاق بن يسار عن عمرو بن ميمون مفسَّرًا ملخَّصًا:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اہلِ حدیبیہ جس سال مکہ میں داخل ہوئے، ان کو قربانی کے جانور کے بدلے میں جانور ذبح کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر بدل بھی لیئے۔ اور اونٹ کم پڑ گئے۔ تو جن لوگوں کو قربانی کے لیئے اونٹ یا بدنہ نہ مل سکا، انہیں گائے خریدنے کی رخصت دی گئی۔ ٭٭ اس حدیث کو محمد بن اسحاق بن یسار نے عمرو بن میمون سے مفسر اور مختصر روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1805]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1806
أخبرَناه أبو بكر محمد بن المُؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا النُّفَيلي، حدثنا محمد بن سَلَمة، عن محمد بن إسحاق، عن عمرو بن ميمون بن مِهْران قال: سمعتُ أبا حاضر الحِمْيَري يحدِّث أبي ميمونَ بن مِهْران قال: خرجتُ معتمرًا عامَ حاصَرَ أهلُ الشام ابنَ الزبير بمكة، وبَعَثَ معي رجالٌ من قومي بهديٍ، فلما انتهينا إلى أهل الشام مَنَعُونا أن ندخل الحرم، فنحرتُ الهدي مكاني وأحللتُ، ثم رجعتُ، فلما كان من العام المُقبِل خرجتُ لأقضيَ عُمرتي، فأتيتُ ابن عباس فسألته، فقال: أبدِلِ الهديَ، فإنَّ رسولَ الله ﷺ أَمَرَ أصحابه أن يُبدِلوا الهديَ الذي نَحَروا عام الحديبية في عُمْرة القضاء. قال عمرو: وكان أبي قد أهمَّه ذلك، يقول: لا أدري هل أبدلَ أصحابُ النبيِّ ﷺ الهديَ الذي نحروا بالحديبية في عمرة القضاء، أم لا، حتى حدَّثه أبو حاضر (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وأبو حاضر شيخٌ من أهل اليمن مقبولٌ صدوق.
سیدنا ابومیمون بن مہران رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس سال اہلِ شام نے ابن الزبیر کا مکہ میں محاصرہ کیا، میں اس سال عمرہ کے لیے نکلا اور میرے قبیلے کے بہت سارے لوگوں نے میرے ہمراہ قربانی کے جانور بھی بھیجے تھے، جب ہم لوگ مکہ پہنچے تو اہلِ شام نے ہمیں حرم شریف میں داخل ہونے سے منع کر دیا۔ میں نے اسی جگہ پر جانور ذبح کر دئیے اور احرام کھول دیا اور لوٹ آیا پھر اگلے سال میں عمرہ کی قضاء کرنے کے لیے نکلا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ان قربانیوں کے بدلے قربانیاں دو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو عمرہ قضاء میں دوبارہ قربانیاں کرنے کا حکم دیا تھا جنہوں نے حدیبیہ کے سال جانور ذبح کیے تھے، عمرو بن میمون فرماتے ہیں: جن لوگوں نے حدیبیہ کے سال جانور ذبح کیے تھے، ان کو اس پر عمل کرنا بہت دشوار تھا۔ وہ فرماتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے عمرہ قضاء میں ان قربانیوں کا بدل دیا تھا یا نہیں؟ جو انہوں نے حدیبیہ کے سال ذبح کی تھیں یہاں تک کہ ابوحاضر نے ان کو یہ حدیث سنائی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور ابوحاضر اہلِ یمن سے ہیں شیخ الحدیث ہیں۔ مقبول اور صدوق ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1806]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں