🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. يَدْعُو اللَّهُ بِالْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
قیامت کے دن اللہ مؤمن کو پکارے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1840
أخبرني أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفيُّ وأبو محمد عبد الله بن محمد بن موسى العدل، قالا: حدثنا محمد بن أيوب، حدثنا عبد الأعلى بن حمّاد، حدثنا أبو عاصم العَبّاداني، عن الفضل بن عيسى، عن محمد بن المُنكَدِر، عن جابر بن عبد الله، عن النبيِّ ﷺ قال:"يَدْعو اللهُ بالمؤمن يومَ القيامة حتى يُوقِفَه بين يديه، فيقول: عبدي، إنِّي أَمرتُك أن تَدعُوَني، ووعدتُك أن أستجيبَ لك، فهل كنتَ تَدْعُوني؟ فيقول: نَعَم يا رب، فيقول: أمَا إِنَّك لم تَدْعُني بدعوةٍ إِلَّا استجبتُ لك، أليس دَعَوتَني يومَ كذا وكذا لِغَمٍّ نزل بك أن أفُرِّجَ عنك، ففرَّجتُ عنك؟ فيقول: نعم يا رب، فيقول: فإني عجّلتُها لك في الدنيا، ودَعوتَني يومَ كذا وكذا لِغَمٍّ نزل بك أن أُفرِّج عنك، فلم تَرَ فَرَجًا؟ قال: نعم يا رب، فيقول: إنِّي ادَّخرتُ لك بها في الجنة كذا وكذا، ودَعوتَني في حاجةٍ أَقضيها لكَ في يوم كذا وكذا، فقضيتُها؟ فيقول: نعم يا رب، فيقول: فإنِّي عجَّلتُها لك في الدنيا، ودَعَوتَني في يوم كذا وكذا في حاجةٍ أَقضيها لك، فلم تَرَ قضاءَها؟ فيقول: نعم يا رب، فيقول: إنِّي ادَّخرتُ لك في الجنة كذا وكذا"، قال رسولُ الله ﷺ:"فلا يَدَعُ اللهُ دعوةً دعا بها عبدُه المؤمنُ إلَّا بيَّن له، إمّا أن يكون عَجَّل له في الدنيا، وإمَّا أن يكون ادَّخَر له في الآخرة" قال:"فيقولُ المؤمنُ في ذلك المَقَام: يا ليتَه لم يكن عُجِّل له شيءٌ من دُعائِه" (2) .
هذا حديثٌ تفرَّد به الفضل بن عيسى الرَّقَاشي عن محمد المُنكدِر، ومحلُّ الفضل بن عيسى محلُّ من لا يُتَوهَّم بالوضع.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومن بندے کو بلائے گا یہاں تک کہ اسے اپنے سامنے کھڑا کر لے گا، پھر فرمائے گا: اے میرے بندے! میں نے تجھے حکم دیا تھا کہ تو مجھ سے دعا مانگے اور میں نے تجھ سے وعدہ کیا تھا کہ میں تیری دعا قبول کروں گا، تو کیا تو مجھ سے دعا مانگا کرتا تھا؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں اے میرے رب! پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے (دنیا میں) جو بھی دعا مانگی میں نے اسے تیرے حق میں قبول کر لیا تھا، کیا تو نے فلاں فلاں دن کسی ایسی پریشانی پر مجھ سے دعا نہیں کی تھی جو تجھ پر نازل ہوئی تھی کہ میں اسے دور کر دوں، تو میں نے اسے ٹال دیا تھا؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں اے میرے رب! تو اللہ فرمائے گا: وہ تو میں نے دنیا ہی میں تیرے لیے جلدی پوری کر دی تھی، اور تو نے فلاں فلاں دن کسی ایسی تکلیف پر دعا کی تھی کہ میں اسے دور کر دوں لیکن تو نے اس کا کوئی اثر دنیا میں نہیں دیکھا تھا؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں اے میرے رب! تو اللہ فرمائے گا: میں نے اس کے بدلے تیرے لیے جنت میں فلاں فلاں نعمتیں ذخیرہ کر دی تھیں، اور تو نے فلاں دن مجھ سے کسی ضرورت کے پورا ہونے کی دعا کی تھی تو میں نے اسے پورا کر دیا تھا؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں اے میرے رب! تو اللہ فرمائے گا: وہ میں نے دنیا ہی میں تیرے لیے جلدی پوری کر دی تھی، اور تو نے فلاں فلاں دن مجھ سے اپنی کسی ضرورت کے لیے دعا کی تھی لیکن تو نے اس کا پورا ہونا دنیا میں نہیں دیکھا تھا؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں اے میرے رب! تو اللہ فرمائے گا: میں نے اس کے بدلے جنت میں تیرے لیے فلاں فلاں مرتبے محفوظ کر دیے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کی مانگی ہوئی ہر دعا کی حقیقت اس پر واضح فرما دے گا، یا تو وہ دنیا میں جلد پوری کر دی گئی ہوگی یا پھر اسے آخرت کے لیے ذخیرہ کر لیا گیا ہوگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس مقام پر (ثواب دیکھ کر) مومن یہ تمنا کرے گا کہ کاش! اس کی دعاؤں میں سے کوئی ایک چیز بھی دنیا میں جلد پوری نہ کی گئی ہوتی۔
اس حدیث کی روایت میں فضل بن عیسیٰ الرقاشی، محمد بن منکدر سے نقل کرنے میں منفرد ہیں، اور فضل بن عیسیٰ کا مرتبہ ایسا ہے کہ ان پر وضع حدیث کا گمان نہیں کیا جا سکتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1840]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، الفضل بن عيسى» [ترقيم الرساله 1840] [ترقيم الشركة 1825]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں