🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ أَنْجَى لَهُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
آدمی کا کوئی عمل اللہ کے عذاب سے نجات دلانے میں اللہ کے ذکر سے بڑھ کر نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1846
أخبرنا بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدثنا مَكِّي بن إبراهيم، حدثنا عبد الله بن سعيد بن أبي هند، عن زياد بن أبي زياد مولى ابن (1) عيّاش [عن] أبي (2) بَحْريَّة، عن أبي الدَّرداء قال: قال النبيُّ ﷺ:"ألا أُنبِّئُكم بخيرِ أعمالِكم، وأزكاها عند مَليكِكُم، وأرفعِها في درجاتِكم، وخيرٌ لكم من إعطاء الذَّهب والوَرِق، وأن تَلْقَوا عدوَّكم فتَضرِبوا أعناقَهم ويَضرِبوا أعناقَكُم؟" قالوا: وما ذاكَ يا رسول الله؟ قال:"ذِكْرُ الله ﷿". وقال معاذ بنُ جبل: ما عمل آدميٌّ من عَملٍ أنجَى له من عذاب الله من ذِكْرِ الله ﷿ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے اعمال میں سے سب سے بہتر، تمہارے مالک کے نزدیک سب سے زیادہ پاکیزہ، تمہارے درجات میں سب سے بلند، اور تمہارے لیے سونا اور چاندی (اللہ کی راہ میں) دینے سے بھی بہتر، اور اس سے بھی بڑھ کر کہ تم (میدانِ جنگ میں) اپنے دشمن سے ٹکراؤ، پھر تم ان کی گردنیں مارو اور وہ تمہاری گردنیں ماریں، ایسے عمل کی خبر نہ دوں؟ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل کا ذکر۔ اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ عزوجل کے ذکر سے بڑھ کر کوئی عمل ایسا نہیں جو انسان کو اللہ کے عذاب سے نجات دلانے والا ہو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1846]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، على خلاف في رفعه ووقفه، ووصله وإرساله، كما هو مبين في التعليق على "مسند أحمد" 36/ (21702). أبو بحرية: هو عبد الله بن قيس الكندي.» [ترقيم الرساله 1846] [ترقيم الشركة 1831]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1847
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنى وأبو مُسلِم، قالا: حدثنا مسدَّد، حدثنا بشر بن المُفضَّل، حدثنا عُمارة بن غَزِيّة (1) ، عن صالح مولى التَّوأمة، قال: سمعتُ أبا هريرة يقول: قال أبو القاسم ﷺ:"أيُّما قومٍ جَلَسوا فأطالوا الجلوس، ثم تفرَّقوا قبل أن يَذكُروا الله، أو يصلُّوا على نبيِّه (2) ﷺ، إِلَّا كانت عليهم من الله تِرَةٌ، إن شاء عذَّبهم، وإن شاء غَفَرَ لهم" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وصالحٌ ليس بالساقط (4) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ بھی کسی مجلس میں بیٹھے اور وہاں طویل وقت گزارا، پھر اللہ کا ذکر کیے بغیر اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے بغیر وہاں سے جدا ہو گئے، تو اللہ کی طرف سے ان پر «تِرَةٌ» نقصان، حسرت اور کوتاہی کا وبال ہوگا، اب اگر اللہ چاہے تو انہیں عذاب دے اور اگر چاہے تو انہیں معاف فرما دے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کے راوی صالح (مولى التوامہ) ساقط الاعتبار نہیں ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1847]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل صالح مولى التوأمة - وهو ابن نبهان - فهو صدوق حسن الحديث، وهو وإن كان قد اختلط إلّا أنَّ سماع عمارة بن غزية منه قبل الاختلاط، وتابعه أيضًا ابن أبي ذئب وزياد بن سعد - كما سيأتي في التخريج - وهما ممن سمع منه قبل الاختلاط أيضًا.» [ترقيم الرساله 1847] [ترقيم الشركة 1832]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1848
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث، عن ابن الهاد، عن يحيى بن سعيد، عن زُرَارة بن أَوفَى، عن عائشةَ قالت: ما كان رسولُ الله ﷺ يقوم من مجلسٍ إلَّا قال:"سُبحانَك اللهمَّ ربي وبحمدِك، لا إله إلَّا أَنتَ، أستغفرُكَ وأتوبُ إليك" فقلت له: يا رسول الله، ما أكثرَ ما تقول هؤلاء الكلمات إذا قمتَ! قال:"لا يقولُهنَّ أحدٌ حين يقوم من مَجلسِه، إِلَّا غُفِر له ما كان منه في ذلك المَجلِس" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی مجلس سے اٹھتے تو یہ کلمات ضرور کہتے تھے: «سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ رَبِّي وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» اے اللہ! اے میرے پروردگار! تو اپنی تعریفوں کے ساتھ پاک ہے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اٹھتے وقت یہ کلمات کتنی کثرت سے پڑھتے ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی اپنی مجلس سے اٹھتے وقت یہ کلمات کہہ لے، تو اس مجلس میں اس سے (گفتگو کے دوران) جو کچھ بھی (خطا و لغزش) ہوئی ہو، اسے معاف کر دیا جاتا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1848]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، رجاله ثقات، غير أنَّ زرارة بن أوفى ذكر المزي في ترجمته من "تهذيب الكمال" أن المحفوظ أنَّ بينه وبين عائشة سعد بن هشام. وقد أعله أبو حاتم بالاختلاف على الليث بن سعد فيه كما سيأتي. والليث: هو ابن سعد، وابن الهاد: هو يزيد بن عبد الله، ويحيى بن سعيد: هو الأنصاري.» [ترقيم الرساله 1848] [ترقيم الشركة 1833]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں