المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
32. أَفْضَلُ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ وَالتَّهْلِيلِ
سب سے افضل تسبیح، تحمید اور تہلیل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1876
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن أبي عيسى موسى بن عيسى الصَّغير (1) ، حدثني عَوْن بن عبد الله بن عُتْبة، عن أبيه قال: سمعتُ النُّعمان بن بَشِيرٍ يقول: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ مِن جَلال اللهِ مما تَذْكُرونَ، التَّسبيحَ والتَّحميدَ والتَّهليلَ، إنَّهنَّ لَيَتَعَطَّفْنَ حولَ العرش لهنَّ دَوِيٌّ كدَوِيِّ النحل، يُذَكَّرنَ بصاحبِهنَّ، أفلا يُحِبُّ أحدُكم أن يكونَ له عندَ الله من يُذكِّرُه به؟" (2) .
هذا حديث على شرط مسلم، فقد احتَجَّ بموسى القارئ، وهو ابن عيسى هذا!
هذا حديث على شرط مسلم، فقد احتَجَّ بموسى القارئ، وهو ابن عيسى هذا!
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کے جلال میں سے وہ تسبیح، تحمید اور تعلیل بھی ہے جس کا تم ذکر کرتے ہو، یہ اللہ کے عرش کے گرد جمع ہو کر جھکی رہتی ہیں، ان کی گنگناہٹ شہد کی مکھی کی سی ہوتی ہے، وہ اپنے پڑھنے والے کو یاد کرتی ہیں کہ کیا تم میں سے کسی کو یہ بات پسند ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کی کوئی ایسی نشانی موجود رہے جس کے باعث اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے کو یاد فرماتا رہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر ہے کیونکہ انہوں نے موسیٰ القاری کی روایات نقل کی ہے اور وہ عیسیٰ کا بیٹا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1876]