المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
39. الدُّعَاءُ بَعْدَ أَكْلِ الطَّعَامِ وَلُبْسِ الثَّوْبِ
کھانا کھانے اور کپڑا پہننے کے بعد کی دعا۔
حدیث نمبر: 1891
حدثنا بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيْرفي بمَرْو، حدثنا عبد الصّمد بن الفَضْل البَلْخي، حدثنا أبو عبد الرحمن عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا سعيد بن أبي أيوب، حدثني أبو مَرحُوم عبد الرحيم (1) بن ميمون، عن سهل بن معاذ بن أنس، عن أبيه، أنَّ النبي ﷺ قال:"مَن أكل طعامًا فقال: الحمدُ لله الذي أطعَمَني هذا، ورَزَقَنيه من غير حَوْلٍ منِّي ولا قوّة، غُفِرَ له ما تقدَّم من ذَنْبِه، ومَن لَبِسَ ثوبًا فقال: الحمدُ لله الذي كَسَاني هذا من غير حولٍ منِّي ولا قوة، غُفِرَ له ما تقدَّم من ذنبه" (2) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيحٌ على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا سہل بن معاذ بن انس رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو کھانا کھا چکے وہ یوں دعا مانگے:” الحمد للّٰہ الذی اطعمنی ھذا، ورزقنیہ من غیر حولٍ منّی ولا قوّۃ “ ” تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں، جس نے مجھے کھلایا حالانکہ اس کی مجھ میں کوئی طاقت اور ہمت نہیں ہے۔ “ اس کے گزشتہ تمام گناہ بخش دئیے جاتے ہیں اور جو شخص لباس پہننے کے بعد یہ دعا پڑھے: ” الحمد للّٰہ الذی کسانی ھٰذا من غیرِ حولٍ مِّنّی، ولا قوّۃ “ ” تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ لباس پہنایا حالانکہ اس کی مجھ میں کوئی طاقت اور ہمت نہیں ہے۔ “ اس کے سابقہ تمام گناہوں کو بخش دیا جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1891]
حدیث نمبر: 1892
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا صالح بن محمد الرَّازي، حدثنا أبي، حدثنا أبو معاوية عبد الرحمن بن قيس، حدثنا محمد بن أبي حُمَيد، عن محمد بن المُنكدر، عن جابرٍ قال: قال رسولُ الله ﷺ:"ما أنعَمَ الله على عبدٍ من نعمةٍ فقال: الحمدُ لله، إلَّا وقد أَدَّى شُكْرَها، فإن قالها الثانيةَ، جَدَّدَ اللهُ له ثوابَها، فإن قالها الثالثةَ، غَفَرَ اللهُ له ذُنوبَه" (1) .
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، إلَّا أنهما لم يخرِّجا أبا معاوية.
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، إلَّا أنهما لم يخرِّجا أبا معاوية.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو کوئی نعمت عطا فرمائے اور وہ اس پر ” الحمدللّٰہ “ کہے تو اس نے اس کا شکر ادا کر دیا۔ اگر دوسری مرتبہ پھر الحمدللّٰہ کہے تو اللہ تعالیٰ اس کو نیا ثواب عطا کرتا ہے پھر اگر تیسری مرتبہ پھر الحمدللّٰہ کہے تو اس کے سابقہ تمام گناہوں کو بخش دیا جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا مگر یہ کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ابومعاویہ کی روایات نقل نہیں کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1892]
حدیث نمبر: 1893
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو الحسن محمد بن سِنَان القَزّاز، حدثنا عمر بن يونس بن القاسم اليَمَاميّ، حدثنا عكرمة بن عمَّارٍ، قال: سمعتُ شدّادًا أبا عمار يحدِّثُ، عن شدَّادِ بن أوْسٍ - وكان بدريًّا - قال: بينما هُم في سَفَرٍ إذ نَزَلَ القومُ يَتصبَّحون، فقال شدّاد: أَدْنُوا هذه السُّفرة نَعبَثْ بها، ثم قال: أَستغفرُ الله، ما تكلمتُ بكلمةٍ منذ أسلمتُ إلَّا وأنا أَزُمُّها وأَخطِمُها قبلَ كلمتي هذه، ليس كذلك قال محمدٌ ﷺ، ولكن قال:"يا شدَّادُ، إذا رأيتَ الناسَ يَكنِزونَ الذَّهبَ والفضةَ فاكنِزْ هؤلاءِ الكلمات: اللهمَّ إِنِّي أسألُك التَّثبُّتَ في الأمور، وعزيمةَ الرُّشْد، وأسألكَ شُكرَ نعمتِك، وحُسنَ عبادَتِك، وأسألكَ قلبًا سليمًا، ولسانًا صادقًا، وخُلُقًا مستقيمًا، وأستغفرُكَ لما تعلم، وأسألك من خيرِ ما تعلمُ، وأعوذُ بكَ من شرِّ ما تعلمُ، إنَّك أنتَ علَّامُ الغُيوب" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوعمار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بدری صحابی ہیں، آپ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ یہ لوگ سفر میں تھے کہ اہلِ قافلہ ناشتہ کرنے کے لیے دسترخوان پر جمع ہوئے (جب کھانا کھا چکے) تو شداد کہنے لگے: یہ دسترخوان سمیٹو! (کچھ دیر) گپ شپ کر لیں، پھر بولے: میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں۔ میں جب سے مسلمان ہوا ہوں اس وقت سے آج تک کبھی بھی کوئی بات بغیر سوچے سمجھے نہیں کی سوائے آج کی اس بات کے۔ (اس لیے میری اس بات کو محفوظ نہ رکھنا بلکہ جس بات کے بارے میں یہ وضاحت کر دوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے اس کو محفوظ کر لیا کرو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں نہیں فرمایا بلکہ آپ علیہ السلام نے یوں فرمایا ہے: اے شداد! جب تم لوگوں کو دیکھو کہ وہ سونا اور چاندی جمع کر رہے ہیں تو تم ان کلمات کا خزانہ جمع کرنا۔” اے اللہ میں تمام امور میں ثابت قدمی کا سوال کرتا ہوں اور ہدایت کی درخواست کرتا ہوں۔ اور میں تجھ سے نعمتوں کا شکر کرنے اور حسنِ عبادت (کی توفیق) مانگتا ہوں۔ اور میں تجھ سے سلامتی والا دل اور سچ بولنے والی زبان اور حسنِ خلق مانگتا ہوں۔ اور میں تجھ سے ان تمام چیزوں کی معافی مانگتا ہوں تو جانتا ہے اور میں تجھ سے اس چیز کی بھلائی مانگتا ہوں جس کو تو جانتا ہے اور میں اس چیز کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس کو تو جانتا ہے اور اس چیز کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس کو تو جانتا ہے بے شک تو ہی ” علامّ الغیّوب “ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1893]