المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
55. فَضِيلَةُ التَّحْمِيدِ وَالتَّسْبِيحِ وَالتَّهْلِيلِ مِائَةَ مَرَّةٍ
سو مرتبہ تحمید، تسبیح اور تہلیل کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 1915
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا زياد بن الخليل التُّستَري، حدثنا محمد بن جامع العطّار، حدثنا السَّكَن بن أبي السكن البُرْجُمي، حدثنا الوليد بن أبي هشام، عن القاسم بن محمد، عن عائشة، قالت: قال رسول الله ﷺ:"ما أنعَمَ اللهُ على عبدٍ من نعمةٍ فعَلِمَ أنها مِن الله إِلَّا كتب الله له شُكرَها قبل أن يَحمَدَه عليها، وما أذنبَ عبدٌ ذنبًا فنَدِم عليه إلَّا كتبَ اللهُ له مغفرتَه قبل أن يَستغفرَه، وما اشترى عبدٌ ثوبًا بدينارٍ أو نصفِ دينارٍ، فلَبِسَه فحَمِدَ الله عليه إِلَّا لم يَبلُغْ ركبتَيه حتى يغفرَ اللهُ له" (1) .
هذا حديث لا أعلم في إسناده أحدًا ذُكر بجَرْح! ولم يُخرجاه.
هذا حديث لا أعلم في إسناده أحدًا ذُكر بجَرْح! ولم يُخرجاه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جس بندے کو بھی کوئی نعمت عطا فرماتا ہے اور وہ یہ جان لیتا ہے کہ یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے شکر ادا کرنے سے پہلے ہی اس کا شکر لکھ دیتا ہے، اور جس بندے سے کوئی گناہ ہو جائے اور وہ اس پر نادم ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے استغفار کرنے سے پہلے ہی اس کی مغفرت لکھ دیتا ہے، اور جو بندہ ایک دینار یا آدھے دینار میں لباس خریدے اور اسے پہن کر اللہ کی حمد بیان کرے تو ابھی وہ لباس اس کے گھٹنوں تک نہیں پہنچتا کہ اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتا ہے۔“
میں اس حدیث کی سند میں کسی ایسے راوی کو نہیں جانتا جس پر جرح کی گئی ہو، اور اسے شیخین نے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1915]
میں اس حدیث کی سند میں کسی ایسے راوی کو نہیں جانتا جس پر جرح کی گئی ہو، اور اسے شیخین نے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1915]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف محمد بن جامع العطار كما أشار إليه الذهبي في "تلخيصه"، إذ نقل قول ابن عدي فيه أنه لا يُتابَع على أحاديثه. قلنا: وضعَّفه أبو حاتم وأبو يعلى والدارقطني، وقد روى هذا الحديثَ أيضًا هشامُ بن زياد، وهو هشام بن أبي هشام أخي الوليد راوي الحديث هنا، لكن ...» [ترقيم الرساله 1915] [ترقيم الشركة 1900]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف محمد بن جامع العطار كما أشار إليه الذهبي في "تلخيصه"