المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
65. كَانَ مِنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَبِّ أَعِنِّي
آپ ﷺ کی دعاؤں میں سے تھا: اے اللہ! میری مدد فرما۔
حدیث نمبر: 1931
أخبرنا عبد الله بن جعفر بن دَرَستَوَيهِ الفارسي، حدثنا يعقوب بن سفيان، حدثنا قَبيصة ومحمد بن كثير، قالا: حدثنا سفيان، عن عمرو بن مُرَّة، عن عبد الله بن الحارث، عن طَلِيقِ بن قيس، عن ابن عباس، قال: كان من دُعاء النبيِّ ﷺ:"ربِّ أعِنِّي ولا تُعِنْ عليَّ وانصُرني ولا تَنصُرْ عَلَيَّ، وامكُرْ لي ولا تمكُرْ علَيَّ، واهدِني ويَسِّرِ الهُدى لي، وانصُرني على مَن بَغَى عَلَيَّ، رَبِّ اجعلْني لك شَكّارًا، لك ذَكّارًا، لك رَهّابًا، لك مِطوَاعًا، لك مُخبِتًا، لك أوّاهًا مُنِيبًا، تَقبّل تَوبتي، وأجِبْ دعوتي، واهْدِ قلبي وثَبِّتْ حُجَّتي، وسَدِّد لِساني، واسْلُلْ سَخِيمةَ قلبي" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: «رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ، وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرِ الْهُدَى لِي، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ، رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا، لَكَ ذَكَّارًا، لَكَ رَهَّابًا، لَكَ مِطْوَاعًا، لَكَ مُخْبِتًا، لَكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا، تَقَبَّلْ تَوْبَتِي، وَأَجِبْ دَعْوَتِي، وَاهْدِ قَلْبِي وَثَبِّتْ حُجَّتِي، وَسَدِّدْ لِسَانِي، وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي» ”اے میرے رب! میری مدد فرما اور میرے خلاف (کسی کی) مدد نہ فرما، مجھے نصرت عطا فرما اور میرے مقابلے میں کسی کو غلبہ نہ دے، میرے حق میں تدبیر فرما اور میرے خلاف تدبیر نہ ہونے دے، مجھے ہدایت دے اور ہدایت کی راہ کو میرے لیے سہل بنا دے، اور اس شخص کے خلاف میری مدد فرما جو مجھ پر سرکشی کرے، اے میرے رب! مجھے اپنا بہت زیادہ شکر کرنے والا، بہت زیادہ یاد کرنے والا، تجھ سے ڈرنے والا، تیرا نہایت مطیع و فرمانبردار، تیرے سامنے عاجزی کرنے والا اور تیری طرف آہ و زاری کے ساتھ رجوع کرنے والا بنا دے، میری توبہ قبول فرما، میری پکار سن لے، میرے دل کو راہِ راست پر رکھ، میری حجت کو مضبوط کر، میری زبان کو حق پر استوار رکھ اور میرے دل کے کینے کو دھو ڈال۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1931]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1931]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،قبيصة: هو ابن عُقبة السُّوَائي، ومحمد بن كثير: هو العَبْدي، وسفيان: هو الثَّوري.» [ترقيم الرساله 1931] [ترقيم الشركة 1916]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح