🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

123. التَّسْبِيحُ بِالنَّوَى
کھجور کی گٹھلیوں پر تسبیح کرنے کا جواز۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2031
حدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا هشام بن علي السَّدُوسي، حدثنا شاذُّ بن فَيَّاض، حدثنا هاشم بن سعيد عن كِنانةَ، عن صَفِيَّةَ قالت: دخلَ علَيَّ رسولُ الله ﷺ وبين يدَيّ أربعة آلافِ نَوَاةٍ أسبِّحُ بهنّ، فقال:"يا بنتَ حُيَيٍّ، ما هذا؟" قلتُ: أُسبِّحُ بهنّ، قال:"قد سبَّحتُ منذ قُمتُ على رأسِكِ أكثرَ من هذا"، قلت: عَلِّمني يا رسولَ الله، قال:"قُولي: سبحانَ الله عَدَدَ مَا خَلَقَ من شيءٍ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ من حديث المصريين بإسناد أصحَّ من هذا:
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میرے سامنے چار ہزار کھجور کی گٹھلیاں پڑی تھیں جن پر میں تسبیح پڑھ رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے حُیی کی بیٹی! یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: میں ان پر تسبیح پڑھ رہی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سے میں تمہارے پاس آ کر کھڑا ہوا ہوں، میں نے اس سے بھی زیادہ تسبیح پڑھ لی ہے، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے بھی سکھا دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: «سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ مِنْ شَيْءٍ» اللہ کی تسبیح ہے اس کی پیدا کردہ ہر چیز کی تعداد کے برابر۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور مصری راویوں کی ایک حدیث سے اس کا شاہد بھی موجود ہے جس کی سند اس سے بھی زیادہ صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 2031]
تخریج الحدیث: «حديث حسن كما قال الحافظ ابن حجر في "نتائج الأفكار" 1/ 82، وهذا إسناد ضعيف لضعف هاشم بن سعيد - هو الكوفي - لكنه متابع، وللحديث طريق أخرى لا بأس بها عن صفية، وبذلك يمكن تحسين الحديث، على أنَّ له شاهدًا أيضًا، فتأكد تحسينُه، والله أعلم.» [ترقيم الرساله 2031] [ترقيم الشركة 2015]

الحكم على الحديث: حديث حسن كما قال الحافظ ابن حجر في "نتائج الأفكار" 1/ 82
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2032
حدَّثناه إسماعيل بن أحمد الجُرْجاني، حدثنا محمد بن الحسن بن قُتيبة العَسقَلاني، حدثنا حَرْملة بن يحيى، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ سعيد بن أبي هلال حدَّثَه عن عائشة بنت سعد بن أبي وقّاص، عن أبيها: أنه دَخَلَ مع النبيِّ ﷺ على امرأةٍ وبين يديها نَوًى أو حَصًى تُسبِّحُ، فقال:"أُخبِرُك بما هو أيسَرُ عليكِ من هذا وأفضلُ؟ قُولي: سُبحانَ الله عَددَ مَا خَلَق في السماءِ، سُبحانَ الله عدَدَ ما خَلَق في الأرض، سُبحانَ الله عدَدَ ما بينَ ذلك، وسُبحانَ الله عدَدَ ما هو خالقٌ، الله أكبرُ مثلَ ذلك، والحمدُ لله مثل ذلك، ولا إله إلَّا اللهُ مثلَ ذلك، ولا قُوَّةَ إلَّا بالله مثلَ ذلك" (1)
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک خاتون کے پاس گئے جس کے سامنے گٹھلیاں یا کنکریاں پڑی تھیں جن پر وہ تسبیح پڑھ رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لیے اس سے زیادہ آسان اور افضل ہو؟ تم کہو: «سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ، سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الْأَرْضِ، سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا بَيْنَ ذَلِكَ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ، اللَّهُ أَكْبَرُ مِثْلَ ذَلِكَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِثْلَ ذَلِكَ، وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ» اللہ کی تسبیح ہے ان چیزوں کی تعداد کے برابر جو اس نے آسمان میں پیدا کیں، اللہ کی تسبیح ہے ان چیزوں کی تعداد کے برابر جو اس نے زمین میں پیدا کیں، اللہ کی تسبیح ہے ان چیزوں کی تعداد کے برابر جو ان کے درمیان ہیں، اور اللہ کی تسبیح ہے ان چیزوں کی تعداد کے برابر جن کا وہ پیدا کرنے والا ہے، اور اللہ کی بڑائی ( «الله اكبر») بھی اسی قدر ہے، اللہ کی حمد ( «الحمد لله») بھی اسی قدر ہے، اللہ کی یکتائی ( «لا اله الا الله») بھی اسی قدر ہے، اور گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت ( «لا حول ولا قوة الا بالله») بھی اسی قدر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 2032]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكنه اختُلف فيه عن عبد الله بن وهب، فأكثر الروايات عنه وقع فيها زيادة راوٍ في الإسناد بين سعيد بن أبي هلال وعائشة بنت سعد بن أبي وقاص، وهو رجل اسمه خزيمة، كذلك وقع اسمه مهملًا غير مقيد، وهو رجل مجهول. وممَّن لم يذكره ...» [ترقيم الرساله 2032] [ترقيم الشركة 2016]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں