🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ، فَإِنَّ الْخَيْرَ طُمَأْنِينَةٌ وَإِنَّ الشَّرَّ رِيبَةٌ
جس چیز میں شبہ ہو اسے چھوڑ دو اور جس میں شبہ نہ ہو اسے اختیار کرو، کیونکہ بھلائی اطمینان ہے اور برائی بے چینی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2199
أخبرنا أحمد بن كامل، حدثنا عبد الملك بن محمد، حدثنا سعيد بن عامر وعفّان، قالا: حدثنا شعبة. وأخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يزيد بن زُريع، حدثنا شعبة، عن بُرَيد بن أبي مريم، عن أبي الحَوْراء قال: سألتُ الحسنَ بن عليٍّ: ما يَذكُر من رسول الله ﷺ؟ قال: سمعتُه يقول:"دَعْ ما يَريبُك إلى ما لا يَريبُك، فإنَّ الخيرَ اطمَأْنينةٌ، وإنَّ الشرَّ رِيبةٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رُوي بلفظ آخر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2169 - صحيح
سیدنا ابوالجوزاء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کیا ذکر کرتے ہیں؟ انہوں نے جواباً فرمایا: جو چیز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور جس میں شک نہ ہو اسے اختیار کر لو اس لیے کہ خیر اطمینان ہے اور شر شک ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ مذکورہ حدیث کی دوسری روایت: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2199]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2200
حدَّثَناه أبو زكريا العَنْبري وأبو بكر بن جعفر وعلي بن عيسى وعبد الله بن سعد، قالوا: حدثنا محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا أبو صالح مَحْبوب بن موسى، حدثنا أبو إسحاق الفَزاري، عن الحسن بن عُبيد الله النَّخَعي، عن بُرَيد بن أبي مريم، عن أبي الحَوْراء، قال: قلتُ للحسن بن علي: مِثلُ مَن كنتَ في عهد رسول الله ﷺ، وماذا عَقَلتَ عنه؟ قال: أتى رجلٌ رسولَ الله ﷺ، فسمعت رسول الله ﷺ يقول:"دَع ما يَريبُك إلى ما لا يَريبُك، فإنَّ الشرَّ رِيبةٌ، والخيرَ اطمَأْنينةٌ" (2) . شاهدُه حديث أبي أُمامة الباهِلي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2170 - سكت عنه الذهبي في هذا الموضع
سیدنا ابوالجوزاء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کس جیسے تھے؟ اور آپ نے ان سے کیا سیکھا؟ انہوں نے فرمایا: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا جو چیز تمہیں شک میں ڈالے اس کو چھوڑ دو اور جس میں شک نہ ہو اس کو اختیار کر لو۔ بے شک خیر اطمینان ہے اور شر شک ہے۔ مذکورہ حدیث کی شاہد حدیث: سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ (درج ذیل) حدیث اس مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2200]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں