سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب الطِّيبِ عِنْدَ الإِحْرَامِ
باب: احرام کے وقت خوشبو لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1745
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَلِإِحْلَالِهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب آپ احرام باندھتے تو احرام باندھنے سے پہلے اور احرام کھولنے کے بعد اس سے پہلے کہ آپ طواف کریں خوشبو لگایا کرتی تھی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1745]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام باندھنے کے وقت، احرام سے پہلے خوشبو لگایا کرتی تھی اور ایسے ہی احرام کھولنے کے بعد، بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1745]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الغسل 12(267)، 14 (270)، والحج 18 (1539)، 143 (1754)، واللباس 73 (5922)، 74 (5923)، 79 (5928)، 81 (5930)، صحیح مسلم/الحج 7 (1189)، سنن النسائی/الحج 41 (2686)، سنن ابن ماجہ/المناسک 18 (2926)، موطا امام مالک/الحج 7 (17)، مسند احمد 6/98، 106، 130، 162، 181، 186، 192، سنن الدارمی/المناسک 10 (1844)، (تحفة الأشراف: 17518، 17518)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 77 (917) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حالت احرام میں کسی قسم کی خوشبو کا استعمال درست نہیں، لیکن اگر یہی خوشبو احرام باندھتے وقت لگائی جائے تو مستحب ہے، چاہے یہ خوشبو بدن یا کپڑے میں احرام کے بعد بھی باقی رہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1539) صحيح مسلم (1189)
حدیث نمبر: 1746
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الْمِسْكِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ احرام باندھے ہوئے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1746]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، فرماتی ہیں: ”گویا میں کستوری کی اس چمک کو دیکھ رہی ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں لگی ہوتی جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام میں ہوتے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1746]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 7 (1190)، سنن النسائی/الحج 41 (2694)، (تحفة الأشراف: 15925)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/38، 186، 212، 191، 224، 228، 245) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1190)