🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. باب مَنْ بَعَثَ بِهَدْيِهِ وَأَقَامَ
باب: ہدی بھیج کر خود مقیم رہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1757
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي ثُمَّ أَشْعَرَهَا وَقَلَّدَهَا ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى الْبَيْتِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَيْءٌ كَانَ لَهُ حِلًّا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے لیے قلادے بٹے پھر آپ نے انہیں اشعار کیا اور قلادہ ۱؎ پہنایا پھر انہیں بیت اللہ کی طرف بھیج دیا اور خود مکہ میں مقیم رہے اور کوئی چیز جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال تھی آپ پر حرام نہیں ہوئی ۲؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1757]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے اونٹ کے ہار کی رسیاں اپنے ہاتھوں سے بٹیں، پھر آپ نے ان کا «إِشْعَارٌ» کیا اور ان کے گلے میں «قِلَادَةٌ» ڈالا، پھر اسے بیت اللہ کی جانب روانہ کر دیا اور خود مدینہ میں مقیم رہے تو جو چیزیں آپ کے لیے حلال تھیں (اسی طرح حلال ہی رہیں) کچھ بھی حرام نہ ہوا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1757]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحج 106 (1696)، 107(1698)، 108 (1699)، 109 (1700)، 110 (1701)، والوکالة 14 (2317)، والأضاحي 15 (5566)، صحیح مسلم/الحج 64 (1321)، سنن النسائی/الحج 62 (2774)، 68 (2785)، سنن ابن ماجہ/المناسک 94 (3094)، 96 (3098)، وانظر أیضا حدیث رقم: (1755)، (تحفة الأشراف: 17433)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 69 (908)، موطا امام مالک/الحج 15(51)، مسند احمد (6/35، 36، 78، 85، 91، 102، 127، 174، 180، 185، 191، 200) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ یا رسی وغیرہ لٹکانے کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ لوگ ان جانوروں کو اللہ کے گھر کے لئے خاص جان کر ان سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں۔
۲؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مقیم کے لئے بھی ہدی بھیجنا درست ہے اور صرف ہدی بھیج دینے سے وہ محرم نہیں ہو گا، اور نہ اس پر کوئی چیز حرام ہو گی جو محرم پر ہوتی ہے، جب تک کہ وہ احرام کی نیت کر کے احرام پہن کر خود حج کو نہ جائے، اور بعض لوگوں کی رائے ہے کہ وہ بھی مثل محرم کے ہو گا اس کے لئے بھی ان تمام چیزوں سے اس وقت تک بچنا ضروری ہو گا جب تک کہ ہدی قربان نہ کردی جائے، لیکن صحیح جمہور کا مذہب ہی ہے، جیسا کہ اس حدیث سے ثابت ہو رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1699) صحيح مسلم (1321)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1758
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ الْهَمَدَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهْدِي مِنْ الْمَدِينَةِ فَأَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِهِ ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ".
عروہ اور عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے ہدی بھیجتے تو میں آپ کی ہدی کے قلادے بٹتی اس کے بعد آپ کسی چیز سے اجتناب نہیں کرتے جس سے محرم اجتناب کرتا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1758]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے ہدی بھیجا کرتے تھے۔ میں ان کے قلادوں کی رسیاں بٹا کرتی تھی اور پھر آپ کسی چیز سے اجتناب نہ کرتے جس سے کہ محرم اجتناب کرتا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1758]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحج (1698)، صحیح مسلم/الحج 64 (1321)، سنن النسائی/الحج 65 (2777)، سنن ابن ماجہ/الحج 94 (3094)، (تحفة الأشراف: 16582، 17923)، وقد أخرجہ: (6/62) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1698) صحيح مسلم (1321)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1759
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ، زَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهُمَا جَمِيعًا وَلَمْ يَحْفَظْ حَدِيثَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ هَذَا وَلَا حَدِيثَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ هَذَا، قَالَا: قَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ:" بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَدْيِ، فَأَنَا فَتَلْتُ قَلَائِدَهَا بِيَدِي مِنْ عِهْنٍ كَانَ عِنْدَنَا ثُمَّ أَصْبَحَ فِينَا حَلَالًا يَأْتِي مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ".
ام المؤمنین (عائشہ) رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی روانہ کئے تو میں نے اپنے ہاتھ سے اس اون سے ان کے قلادے بٹے جو ہمارے پاس تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال ہو کر ہم میں صبح کی آپ نے وہ تمام کام کئے جو ایک حلال (غیر مُحرم) آدمی اپنی بیوی سے کرتا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1759]
ام المؤمنین (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی بھجوائی اور میں نے اون سے جو ہمارے ہاں تھی، اس کے قلاووں کی رسیاں بٹیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں اسی طرح حلال ہی رہے، اپنے اہل کے پاس آتے جیسے کہ کوئی عام آدمی آتا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1759]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحج (1705)، صحیح مسلم/الحج 64 (1321)، سنن النسائی/الحج 65 (2778)، (تحفة الأشراف: 15918، 17466) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1699) صحيح مسلم (1321)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں