المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
86. التَّشْدِيدُ فِي أَدَاءِ الدَّيْنِ
قرض کی ادائیگی میں سخت تاکید۔
حدیث نمبر: 2377
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، حدثنا بِشر بن موسى، حدثنا زكريا بن عدي، حدثنا عبيد الله بن عمرو الرَّقِّي، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن جابر، قال: مات رجلٌ فغسّلناه وكفَّنّاه وحنّطناه، ووضعناه لرسول الله ﷺ حيث تُوضَع الجنائز عند مَقام جبريل، ثم آذَنّا رسولَ الله ﷺ بالصلاة عليه، فجاء معنا خُطًا، ثم قال:"لعلَّ على صاحبِكم دَينًا؟" قالوا: نعم، دينارانِ، فتخلّف، فقال له رجلٌ منا يقال له أبو قَتَادة: يا رسول الله، هما عليَّ، فجعل رسولُ الله ﷺ يقول:"هما عليكَ وفي مالِكَ، الميتُ منهما بَريءٌ؟" فقال: نعم، فصلَّى عليه، فجعل رسولُ الله ﷺ إذا لقيَ أبا قَتَادة يقول:"ما صنَعَتِ الديناران؟"، حتى كان آخِرَ ذلك، قال: قد قَضَيتُهما يا رسول الله، قال:"الآن حين بَرَّدْتَ عليه جِلْدَه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2346 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2346 - صحيح
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص فوت ہو گیا، ہم نے اسے غسل دیا، کفن پہنایا، خوشبو لگائی اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مقامِ جبریل کے قریب جنازہ گاہ میں رکھ دیا، پھر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز جنازہ کی اطلاع دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ چند قدم تشریف لائے پھر فرمایا: ”شاید تمہارے ساتھی پر کوئی قرض ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، دو دینار، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے ہٹ گئے، پھر ہم میں سے ایک شخص نے جنہیں ابو قتادہ کہا جاتا تھا عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ دونوں دینار میرے ذمے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا وہ تمہارے ذمے ہیں اور تمہارے مال میں سے ادا ہوں گے اور میت اس سے بری ہو جائے گی؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی ابو قتادہ سے ملتے تو پوچھتے: ”ان دو دیناروں کا کیا ہوا؟“ یہاں تک کہ آخر میں انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے وہ ادا کر دیے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب تم نے اس کی جلد کو ٹھنڈک پہنچائی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2377]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2377]
تخریج الحدیث: «صحيح دون قوله في آخر الحديث: "الآن حين برَّدتَ عليه جلدَه"، فقد انفرد به عبد الله بن محمد بن عقيل، وهو ضعيف يعتبر به، ولا يحتمل تفرد مثله بذلك، وقد روي الحديث عن جابر من وجه آخر بدونها، كما سيأتي. وقد حسَّن إسنادَ رواية ابن عقيل هذه غيرُ واحدٍ، كالمنذري ...» [ترقيم الرساله 2377] [ترقيم الشركة 2359] [ترقيم العلميه 2346]
الحكم على الحديث: صحيح دون قوله في آخر الحديث: "الآن حين برَّدتَ عليه جلدَه"