المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
46. مَنْ رَمَى الْعَدُوَّ بِسَهْمٍ فَبَلَغَ سَهْمُهُ أَخْطَأَ أَوْ أَصَابَ فَعَدْلُ رَقَبَةٍ
جس نے دشمن پر تیر چلایا اور وہ تیر پہنچ گیا، چاہے خطا کرے یا لگ جائے، اسے ایک غلام آزاد کرنے کا اجر ملتا ہے۔
حدیث نمبر: 2500
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا عبد الرحمن بن منصور الحارِثي، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قَتَادة، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن مَعْدان بن أبي طلحة اليَعْمَري، عن أبي نَجيح السُّلَمي - وهو عمرو بن عَبَسَة - قال: حاصَرْنا قصرَ الطائف، فسمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن رَمَى بسهمٍ في سبيلِ الله، فله عَدْلُ محرَّرٍ"، قال: فبَلَّغتُ يومئذ ستةَ عشرَ سهمًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد عن عمرو بن عَبَسة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2469 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد عن عمرو بن عَبَسة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2469 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے طائف کے محل کا محاصرہ کیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ” جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک تیر چلائے گا، اس کو غلام آزاد کرنے والے کے برابر ثواب دیا جائے گا۔ (عمرو بن عبسہ) فرماتے ہیں: اس دن میں نے سولہ تیر پھینکے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ عمروہ بن عبسہ سے مروی ایک حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے (جو کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2500]
حدیث نمبر: 2501
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني رجالٌ من أهل العلم منهم عمرو بن الحارث، عن سُليمان بن عبد الرحمن، عن القاسم مولى (1) عبد الرحمن، عن عمرو بن عَبَسة، قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن رمَى العدوَّ بسهمٍ فبَلَغَ سهمُه، أخطأَ أو أصابَ، فعَدْلُ رَقَبةٍ" (2) .
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص دشمن پر ایک تیر پھینکے وہ نشانے پر پہنچ جائے۔ نشانہ خواہ درست ہو یا غلط (بہرحال) اس کو ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2501]