🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

80. سَبَبُ نُزُولِ آيَةِ " فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ "
آیت «فمن كان يرجو لقاء ربه» کے نزول کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2559
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جدّي، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا ابن المبارك، أخبرنا معمر، عن عبد الكريم الجَزَري، عن طاووس، عن ابن عباس، قال: قال رجلٌ: يا رسول الله، إني أقِفُ الموقِفَ أُريد وجهَ الله، وأُريد أن يُرى مَوطِني، فلم يَرُدَّ عليه رسولُ الله ﷺ شيئًا، حتى نَزَلَتْ ﴿فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا﴾ [الكهف: 110] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2527 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایسے مقام پر کھڑا ہوں کہ میں اللہ کی رضا کا ارادہ بھی کرتا ہوں اور یہ بھی ارادہ رکھتا ہوں کہ میرے میدانِ جنگ (کے کارناموں کو بھی) دیکھا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی اس کو کوئی جواب نہیں دیا تھا کہ یہ آیت نازل ہو گئی: (فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآئَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖٓ اَحَدًا) (الکھف: 110) تو جسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو، اسے چاہیے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے ۔۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2559]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2560
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الله بن الحارث الجُمحي المكي، حدثنا سهيل ابن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"أولُ الناسِ يدخُلُ النارَ يوم القيامة ثلاثةُ نَفَرٍ، يُؤتَى بالرجل -أو قال: بأحدهم- فيقولُ: ربِّ عَلَّمْتَني الكتابَ، فقرأتُه آناءَ الليلِ والنهارِ، رجاءَ ثوابِك، فيقال: كذبتَ، إنما كنتَ تُصلي ليُقال: إنك قارئٌ مُصَلٍّ، وقد قيل، اذهبُوا به إلى النار، ثم يُؤتَى بآخرَ، فيقول: ربِّ رَزَقْتَني مالًا فوَصَلتُ به، الرَّحِمَ وتَصدَّقتُ به على المساكين، وحَمَلتُ ابنَ السَّبيلِ، رجاءَ ثوابِك وجنّتِك، فيُقال: كذبتَ، إنما كنتَ تَتَصدّق وتَصِلُ ليقال: إنه سَمْحٌ جَوادٌ، وقد قيل، اذهبُوا به إلى النار، ثم يجاء بالثالث، فيقول: ربِّ خرجتُ في سَبيلِكَ، فقاتَلْتُ فيك حتى قُتِلتُ مُقبِلًا غيرَ مُدبر، رجاءَ ثوابك وجنّتِك، فيُقال: كذبت، إنما كنتَ تقاتلُ ليقال: إنك جريءٌ شجاعٌ، وقد قيل، اذهبُوا به إلى النار" (1) . حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2528 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے تین آدمیوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا، ان میں سے ایک کو لایا جائے گا، وہ کہے گا: اے اللہ! تو نے مجھے قرآن سکھایا، میں دن رات تیری بارگاہ سے ثواب کی امید پر اس کی تلاوت کرتا رہا، اس کو کہا جائے گا: تو جھوٹا ہے، تُو تو اس لیے پڑھتا تھا تاکہ تیرے بارے میں کہا جائے کہ یہ قرآن پڑھنے والا قاری ہے۔ سو وہ کہہ لیا گیا، اس کو جہنم میں لے جاؤ۔ پھر دوسرے کو لایا جائے گا، وہ کہے گا: اے اللہ! تو نے مجھے مال عطا کیا تھا، میں نے اس کے ساتھ صلہ رحمی کی، مسکینوں پر صدقہ کرتا رہا اور مسافروں پر خرچ کرتا رہا، صرف ثواب اور جنت کی نیت سے۔ اس کو کہا جائے گا: تو جھوٹا ہے، تُو تو اپنے آپ کو سخی کہلوانے کے لیے صدقہ کیا کرتا تھا اور صلہ رحمی کرتا تھا، سو وہ کہہ لیا گیا، اس کو جہنم میں لے جاؤ۔ پھر تیسرے آدمی کو لایا جائے گا، وہ کہے گا: اے اللہ! میں تیری راہ میں نکلا اور تیری رضا کی خاطر لڑتا رہا یہاں تک کہ مجھے لڑتے ہوئے قتل کر دیا گیا، پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہوئے میں نہیں مارا گیا ہوں، صرف تیرے ثواب اور جنت کی امید میں۔ اس کو کہا جائے گا: تو جھوٹا ہے، تُو نے تو اس لیے جنگ لڑی تھی تاکہ تجھے دلیر اور بہادر کہا جائے، سو وہ کہہ لیا گیا، اس کو جہنم میں لے جاؤ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس انداز میں اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2560]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں