المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
104. حُكْمُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ
سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا بنو قریظہ کے بارے میں فیصلہ
حدیث نمبر: 2600
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبار، حدثنا النَّضر بن شُميل، أخبرنا شعبة. وأخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة، عن عبد الملك بن عُمير، عن عطية القُرظي، قال: عُرضتُ على رسول الله ﷺ يوم قريظة، فشَكُّوا فيَّ، فأمر النبي ﷺ أن يُنظر إليَّ هل أَنبَتُّ؟ فنظروا إلىَّ، فلم يجدوني أنبتُّ، فخلَّى عني والحقَني بالسَّبْي (1) . حديث رواه جماعة من أئمة المسلمين عن عبد الملك بن عُمير، ولم يُخرجاه، وكأنهما لم يتأمّلا متابعة مجاهد بن جَبْر عبدَ الملك على روايته عن عطية القُرَظي.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2568 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2568 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے بنو قریظہ (کے فیصلے) کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، انہیں میرے بارے میں شک تھا (کہ میں بالغ ہوں یا نہیں)، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ دیکھا جائے کہ کیا میرے زیرِ ناف بال نکل آئے ہیں؟ انہوں نے دیکھا تو ابھی بال نہیں نکلے تھے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چھوڑ دیا اور مجھے قیدیوں (سَبْی) میں شامل کر دیا۔
اس حدیث کو ائمہ کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، گویا انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ مجاہد بن جبر نے اس روایت میں عبدالملک بن عمیر کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2600]
اس حدیث کو ائمہ کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، گویا انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ مجاہد بن جبر نے اس روایت میں عبدالملک بن عمیر کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2600]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2600] [ترقيم الشركة 2583] [ترقيم العلميه 2568]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2601
كما حدَّثَناه أبو العبَّاس محمد بن يعقوب أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب وأخبرني ابن جُرَيج وابن عُيينة، عن ابن أبي نَجيح، عن مجاهد، عن عطيةَ رجلٍ من بني قُريظة أخبره: أنَّ أصحاب رسول الله ﷺ جَرَّدُوه يوم قُريظة فلم يَرُوا المَوَاسي جَرَتْ على شعره - يعني عانَتَه - تركوه مِن القتل (2) . فصار الحديث بمتابعة مجاهد صحيحًا على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2569 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2569 - على شرط البخاري ومسلم
مجاہد سے روایت ہے کہ بنو قریظہ کے ایک شخص عطیہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے بنو قریظہ کے دن ان کے کپڑے اتار کر (بالوں کا) جائزہ لیا تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے زیرِ ناف بالوں پر ابھی استرا نہیں چلا تھا (یعنی وہ ابھی بالغ نہیں ہوئے تھے) تو انہوں نے انہیں قتل کرنے سے چھوڑ دیا۔
پس یہ حدیث مجاہد کی متابعت کی وجہ سے شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2601]
پس یہ حدیث مجاہد کی متابعت کی وجہ سے شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2601]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وقد سمع مجاهد من عطية هذا الخبر، كما صرَّح بذلك عند أبي نعيم في "معرفة الصحابة" (5534). ابن وهب هو عبد الله، وابن جُرَيج هو عبد الملك بن عبد العزيز، وابن عُيينة: هو سفيان، وابن أبي نجيح: هو عبد الله.» [ترقيم الرساله 2601] [ترقيم الشركة 2584] [ترقيم العلميه 2569]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2602
أخبرَناه أبو جعفر أحمد بن عُبيد الأسدي الحافظ بَهَمذان، حدثنا إبراهيم ابن الحسين بن دِيْزِيل، حدثنا إسحاق بن محمد الفَرْوي وإسماعيل بن أبي أُوَيس، قالا: حدثنا محمد بن صالح التمار، عن سعد بن إبراهيم، عن عامر بن سعد، عن أبيه: أنَّ سعد بن معاذ حَكَم على بني قُريظة أن يُقتل منهم كلُّ مَن جَرَت عليه المُوسَى، وأن تُقْسَم أموالُهم وذَراريُّهم، فذُكر ذلك لرسول الله ﷺ فقال:"لقد حَكَمَ اليومَ فيهم بحُكم الله الذي حَكَمَ به من فوقِ سبع سماوات" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2570 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2570 - صحيح
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے بنو قریظہ کے بارے میں یہ فیصلہ کیا کہ ان میں سے ہر وہ شخص قتل کر دیا جائے جس پر استرا چل چکا ہو (یعنی جو بالغ ہو چکا ہو) اور ان کے اموال اور اولاد کو (مسلمانوں میں) تقسیم کر دیا جائے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے آج ان کے بارے میں وہی فیصلہ کیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ساتوں آسمانوں کے اوپر سے (ان کے حق میں) فرمایا تھا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2602]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد اختُلف فيه على سعد بن إبراهيم -وهو ابن عبد الرحمن بن عوف- فرواه محمد بن صالح التمار عنه، كما وقع عند المصنف، ورواه شعبة بن الحجاج عنه عن أبي أمامة بن سهل بن حُنيف عن أبي سعيد الخُذري، وخطّأ أبو حاتم فيما نقله عنه ابنُه في ...» [ترقيم الرساله 2602] [ترقيم الشركة 2585] [ترقيم العلميه 2570]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2603
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا علي بن الحسن الهِلالي، حدثنا أبو مَعمَر عبد الله بن عمرو، حدثنا عبد الوارث، حدثنا محمد بن إسحاق، عن يعقوب بن عُتبة، عن مسلم بن عبد الله بن خُبيب، عن جُندب بن مَكِيث، قال: بعث رسولُ الله ﷺ عبدَ الله بن غالب الليثيَّ في سريّة، وكنتُ فيهم، وأمَرهم أن يشُنُّوا الغارةَ على بني المُلوِّح بالكَدِيد، فخرجنا حتى إذا كنا بالكَدِيد لَقِيْنا الحارثَ ابن البَرْصاء الليثيَّ، فأخذناه، فقال: إنما جئتُ أريدُ الإسلامَ، وإنما خرجتُ إلى رسول الله ﷺ، فقلنا: إن تكن مُسلمًا لم يضُرَّك رباطنا يومًا وليلةً، وإن تكن غيرَ ذلك نَستَوثِق منك، فَشَدَدْناه وَثَاقًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2571 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2571 - على شرط مسلم
سیدنا جندب بن مکیث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن غالب لیثی رضی اللہ عنہ کو ایک دستے کا امیر بنا کر بھیجا، میں بھی ان میں شامل تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کدید کے مقام پر بنو ملوح پر چھاپہ مارنے کا حکم دیا، ہم روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب ہم کدید پہنچے تو ہماری ملاقات حارث بن برساء لیثی سے ہوئی، ہم نے اسے پکڑ لیا، اس نے کہا: میں تو اسلام لانے کی نیت سے نکلا ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جا رہا ہوں، ہم نے کہا: اگر تم سچے مسلمان ہو تو ہمارا ایک دن اور ایک رات تمہیں باندھ کر رکھنا تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا، اور اگر تم کچھ اور ہوئے تو ہم تم سے (حفاظتی طور پر) نپٹ لیں گے، چنانچہ ہم نے اسے مضبوطی سے باندھ دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2603]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2603]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،إن شاء الله، وقد حسَّنه الحافظ في "الإصابة" 5/ 316 في ترجمة غالب بن عبد الله الليثي، ومسلم بن عبد الله بن خُبيب -وإن لم يرو عنه غير يعقوب بن عتبة- هو أحد ولد عبد الله بن خُبيب الصحابي، ولا يُعرف فيه جَرحة.» [ترقيم الرساله 2603] [ترقيم الشركة 2586] [ترقيم العلميه 2571]
الحكم على الحديث: إسناده حسن