المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
13. النَّهْيُ عَنْ بَيْعِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ وَعَنِ الْحَبَالَى حَتَّى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنَّ
غنیمت کے مال کو تقسیم سے پہلے بیچنے اور حاملہ عورتوں کو بچے کی پیدائش سے پہلے بیچنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 2644
أخبرني عبد الله بن محمد بن حَمُّويه، حدثني أبي، حدثنا أحمد بن حفص بن عبد الله، حدثني أبي، حدثني إبراهيم بن طَهْمان، عن يحيى بن سعيد الأنصاري، عن عمرو بن شعيب، عن عبد الله بن أبي نَجيح، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال: نهى رسول الله ﷺ يومَ خيبر عن بيع المَغانم حتَّى تُقسَم، وعن الحَبَالى أن يُوطأنَ حتى يَضعْن ما في بُطونهن، وقال:"أتسقي زَرْعَ غيرِك؟"، وعن أكلِ لحوم الحُمُر الإنسيّة، وعن لحم كل ذي نابٍ من السِّباع (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2611 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2611 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر تقسیم سے قبل، غنیمت کا مال بیچنے سے اور حمل پیدا ہو جانے سے قبل لونڈیوں کے ساتھ وطی کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا: کیا تم غیر کی کھیتی کو سیراب کرو گے؟ اور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن) پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے اور کچلیوں والے درندوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2644]
حدیث نمبر: 2645
أخبرَناه أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا عُبيد بن شَريك، أخبرنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، حدثني عبد الرحمن بن الحارث، عن ابن أبي نَجيح، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال: نهى رسول الله ﷺ يومَ خيبر عن بيع المَغانم حتى تُقسَم (2) . وقد روي بعض هذا المتن بإسناد صحيح على شرط الشيخين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2612 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2612 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ خیبر کے موقع پر تقسیم سے قبل مالِ غنیمت بیچنے سے منع فرمایا۔ ٭٭ اسی متن کا کچھ حصہ ایسی سند کے ہمراہ بھی مروی ہے جو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2645]
حدیث نمبر: 2646
أخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا شَيبان، عن الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عباس قال: نهى رسولُ الله ﷺ يومَ خيبر عن لحوم الحُمُر الأهليّة، وعن النساء الحَبَالى أن يُوطأنَ حتى يَضعْن ما في بُطونهن، وعن كُلّ ذي نابٍ من السِّباع، وعن بيع الخُمُس حتى يُقسَم (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2613 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2613 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ خیبر کے موقع پر پالتو گدھوں کا گوشت کھانے، حمل پیدا ہو جانے سے قبل لونڈیوں کے ساتھ وطی کرنے، کچلیوں والے درندوں کا گوشت کھانے اور تقسیم سے قبل غنیمت کا مال فروخت کرنے سے منع فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2646]
حدیث نمبر: 2647
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني، حدثنا ابن أبي غَرَزة، حدثنا محمد بن سعيد بن الأصبهاني، حدثنا شَريك، عن منصور، عن رِبعي بن حِراش، عن علي، قال: لمَّا افتَتَح رسولُ الله ﷺ مكة، أتاهُ ناسٌ من قريش فقالوا: يا محمد، إنا حُلفاؤُك وقومُك، وإنه لَحِقَ بك أرِقّاؤُنا ليس لهم رغبةٌ في الإسلام، وإنهم فَرُّوا من العَمَل فاردُدْهم علينا، فشاوَرَ أبا بكر في أمرهم، فقال: صدَقوا يا رسول الله، وقال لعُمر:"ما تَرى؟" فقال مثلَ قول أبي بكر، فقال رسول الله ﷺ:"يا معشرَ قُريش، لَيَبعثَنَّ الله عليكم رجلًا منكم امتَحَنَ اللهُ قلبَه للإيمان، يضربُ رقابَكم على الدِّين"، فقال أبو بكر: أنا هو يا رسول الله؟ قال:"لا" قال عمر: أنا هو يا رسول الله؟ قال:"لا، ولكن خاصِفُ النَّعْل في المسجد"، وقد كان ألقَى نعلَه إلى عليٍّ يَخصِفُها. ثم قال: أما إني سمعتُه يقول:"لا تَكذِبُوا عليَّ، فإنه مَن يَكذِبْ عليَّ يَلِجِ النارَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2614 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2614 - على شرط مسلم
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر کچھ قریشی لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آ کر عرض کرنے لگے: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے حلیف ہیں، ہمارے کچھ غلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت میں شرکت اختیار کر چکے ہیں جبکہ ان کو اسلام میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، وہ لوگ محض کام سے بھاگتے ہیں، اس لیے ان کو ہماری طرف لوٹا دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! یہ لوگ سچ کہہ رہے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے بھی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے موقف کی تائید کی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے قرشیو! میں تم پر ایک ایسا شخص نگران مقرر کروں گا، اللہ نے جس کا دل ایمان کے لیے آزما لیا ہے۔ وہ دین کے معاملے میں تمہاری گردنیں مارے گا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے: یا رسول اللہ! کیا وہ شخص ” میں “ ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: یا رسول اللہ کیا وہ شخص میں ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ بلکہ وہ مسجد میں جوتے سلائی کرنیوالا شخص ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نعلین حفاظت کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دے دیا کرتے تھے۔ پھر سیدنا علی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنایا: علی کو مت جھٹلاؤ کیونکہ جو شخص علی کو جھٹلائے وہ جہنمی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2647]
حدیث نمبر: 2648
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، قال: قال لي يحيى بن أيوب: حدثني إبراهيم بن سعد، عن كثير مولى بني مَخزُوم، عن عطاء، عن ابن عباس: أنَّ النبي ﷺ قَسَمَ لمئتَي فرسٍ يومَ خيبر سهمَين سهمَين (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، وقد احتجَّ البخاري بيحيى بن أيوب وكثير بن كثير المخزومي.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2615 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، وقد احتجَّ البخاري بيحيى بن أيوب وكثير بن كثير المخزومي.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2615 - على شرط البخاري
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ غزوۂ خیبر کے موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سو گھڑ سواروں میں دو، دو سھام تقسیم کیے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا جبکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یحیی بن ایوب اور کثیر المخزوی کی روایات نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2648]
حدیث نمبر: 2649
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مَهدي بن رُستُم، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا أبي، قال: سمعت عبد الله بن مَلَاذٍ يحدّث عن نُمير بن أوس، عن مالك بن مَسرُوح، عن عامر بن أبي عامر الأشعري، عن أبيه، قال: قال رسول الله ﷺ:"نِعمَ الحيُّ الأَسْدُ والأشعرِيّون، لا يَفِرُّون في القتال، ولا يُخِلّون، هم مني وأنا منهم". قال: فحدّثتُ به معاوية، فقال: ليس هكذا، إنما قال رسول الله ﷺ:"هم مني وإليّ"، فقلتُ: ليس هكذا حدثني أبي، ولكن حدثني أنه قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"هم مني وأنا منهم"، قال: فأنت إذًا أعلمُ بحديثِ أبيك (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2616 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2616 - صحيح
سیدنا ابوعامر اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بہترین قبیلہ بنی اسد اور اشعری ہیں، نہ یہ جنگ سے بھاگتے ہیں نہ الگ ہوتے ہیں، یہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔ عامر فرماتے ہیں: میں نے یہی حدیث معاویہ سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: یوں نہیں۔ بلکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” ھُمْ مِنِّیْ وَاِلَیَّ “ میں بولا: میرے والد نے ایسے روایت بیان نہیں کی بلکہ ان کا کہنا تو یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” ھُمْ مِنِّیْ وَاَنَّا مِنْھُم “ فرمایا ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بولے: ٹھیک ہے، میری بہ نسبت اپنے والد کی روایات کو تم زیادہ بہتر جانتے ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2649]
حدیث نمبر: 2650
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر بن سابق الخَوْلاني، حدثنا أيوب بن سُوَيد، حدثنا عبد الله بن شَوذَب، عن عامر بن عبد الواحد، عن عبد الله بن بُريدة الأسلمي، عن عبد الله بن عَمرو، قال: كان النبي ﷺ إذا أصابَ غنيمةً أمر بلالًا فنادى ثلاثًا، فيرفعُ الناسُ ما أصابُوا، ثم يأمُر به فيُخمَّس، فأتاهُ رجلٌ بزِمَامٍ من شَعر، وقد قُسمتِ الغَنيمةُ، فقال له:"هل سمعتَ بلالًا ينادي ثلاثًا؟" قال: نعم، قال:"فما مَنَعَك أن تأتيَ به؟" فاعتَذَر إليه، فقال له:"كن أنت الذي تُوافي به يومَ القيامة، فإني لن أقبلَه منك" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2617 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2617 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی یہ عادت تھی کہ) مالِ غنیمت آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے وہ لوگوں میں اعلان کر دیا کرتے تھے تو لوگ اپنے پاس (غنیمت کا) موجود مال لے آتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیتے تو اس کو پانچ حصوں میں تقسیم کر دیا جاتا۔ پھر اس کے بعد (اگر) کوئی شخص بالوں کی بٹی ہوئی رسّی (بھی) لے آتا لیکن مال تقسیم ہو چکا ہوتا تو آپ علیہ السلام اس سے فرماتے: بلال نے تین مرتبہ اعلان کیا، کیا تم نے سنا تھا؟ وہ کہتا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: تو پھر تجھے مال میرے پاس پیش کرنے سے کس نے منع کیا تھا؟ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی معذرت کرتا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: اب تو قیامت کے دن یہ لے کر آئے گا، میں یہ تجھ سے ہرگز قبول نہیں کروں گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2650]
حدیث نمبر: 2651
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن إسحاق الخراساني ببغداد، حدثنا إبراهيم بن الهيثم البَلَدي، حدثنا الهيثم بن جَميل، حدثنا مُبارك بن فَضَالة، عن عُبيد الله (2) بن عمر، عن سعيد المقبُري، قال: سمعت أبا هريرة، وكنت جالسًا عنده، فقال أبو هريرة: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ نبيًّا من الأنبياء قاتَلَ أهلَ مدينةٍ، حتى إذا كاد أن يَفتَتحَها خشيَ أن تَغرُبَ الشمسُ، فقال لها: أيّتها الشمسُ، إنك مأمُورةٌ وأنا مأمُورٌ، بحُرْمتي عليكِ إلّا رَكَدْتِ ساعةً من النهار. قال: فحَبَسها الله حتى افتتح المدينة. وكانوا إذا أصابُوا الغنائمَ قَرَّبوها في القُربان، فجاءتِ النارُ فأكلتْها، فلما أصابوا وَضَعُوا القُربان، فلم تجيءِ النارُ تأكلُه، فقالوا: يا نبيَّ الله، ما لنا لا يُقبلُ قُربانُنا؟ قال: فيكم غُلول، قالوا: وكيف لنا أن نعلمَ مَن عنده الغُلُول؟ قال: وهم اثنا عشر سِبْطًا، قال: يُبايِعُني رأسُ كل سِبْطٍ منكم، فبايَعَه رأسُ كلِّ سِبْطٍ" قال:"فَلَزِقَت كفُّ النبي بكفِّ رجل منهم، فقال له: عندك الغُلول، فقال: كيف لي أن أعلمَ عند أي سِبْطٍ هو؟ قال: تدعو سِبْطك فتبايعُهم رجلًا رجلًا، قال: ففعل، فلزِقَتْ كفُّه بكفِّ رجلٍ منهم، قال: عندك الغُلول؟ قال: نعم، عندي الغُلول، قال: وما هو؟ قال: رأسُ ثورٍ من ذهب أعجبَني، فغلَلْتُه، فجاء به فوضعه في الغنائم، فجاءتِ النارُ فأكلتْه". فقال كعب: صدق اللهُ ورسولُه، هكذا واللهِ في كتاب الله - يعني في التوراة - قال: يا أبا هريرة، أحدَّثكُم النبي ﷺ أيَّ نبي كان؟ قال: لا، قال كعب: هو يُوشَع بن نُون، قال: فحدَّثكُم أيُّ قرية هي؟ [قال: لا] (1) قال: هي مدينة أَريحا (2) .
هذا حديث غريب صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2618 - صحيح غريب
هذا حديث غريب صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2618 - صحيح غريب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کے ایک نبی نے ایک شہر والوں سے جہاد کیا۔ جب فتح کے آثار قریب تھے، اس وقت سورج بھی بالکل غروب ہونے کو تھا، انہوں نے سورج سے فرمایا: اے سورج تو بھی اللہ کے حکم کا پابند ہے اور میں بھی حکم خدا کا پابند ہوں۔ تجھے میری عزت کا واسطہ تھوڑی دیر کے لیے رُک جا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سورج کو اسی مقام پر روک دیا، یہاں تک کہ وہ شہر فتح ہو گیا۔ (اور ان لوگوں کی عادت تھی کہ) جو مالِ غنیمت ان کے ہاتھ لگتا، اس میں سے اللہ کی راہ میں قربانی پیش کیا کرتے تھے۔ پھر آگ آ کر اس کو کھا جایا کرتی تھی، اس دن جو مالِ غنیمت ان کے ہاتھ لگا، انہوں نے قربانی رکھی لیکن اس کو کھانے کے لیے آگ نہ آئی۔ لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی: کیا وجہ ہے؟ ہماری قربانی قبول نہیں کی گئی؟ اللہ کے نبی نے جواب دیا: اس لیے کہ تمہارے اندر کوئی خائن شخص موجود ہے۔ لوگوں نے کہا: ہمیں کیسے پتہ چلے کہ کس کے پاس خیانت کا مال ہے؟ (آپ نے فرمایا) وہ لوگ بارہ قبیلے تھے، اللہ کے نبی نے فرمایا: تمہارے ہر قبیلہ کا سردار میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔ چنانچہ قبیلوں کے سرداروں نے آپ کی بیعت کی۔ اللہ کے نبی کی ہتھیلی ایک سردار کی ہتھیلی کے ساتھ چپک گئی، اللہ کے نبی نے فرمایا: تیرے قبیلے والوں کے پاس خیانت کا مال ہے۔ اس نے کہا: مجھے یہ کیسے پتہ چلے گا کہ میرے قبیلے کے کون سے شخص کے پاس خیانت کا مال ہے؟ اللہ کے نبی نے فرمایا: اپنے قبیلے کے ایک ایک شخص کو بلا کر اس سے بیعت لو۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ سردار کی ہتھیلی، ان میں سے ایک آدمی کی ہتھیلی کے ساتھ چپک گئی، (سردار نے) اس سے کہا: تیرے پاس خیانت کا مال موجود ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ (سردار نے) پوچھا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: سونے کی ایک ڈلی ہے، مجھے مالِ غنیمت میں پسند آئی تو میں نے اٹھا لی، اس نے وہ منگوا کر مالِ غنیمت میں رکھی تو آگ فوراً آ کر اسے کھا گئی۔ کعب بولے: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا ہے۔ خدا کی قسم! اللہ کی کتاب توراۃ میں بھی ایسے ہی حکم موجود ہیں، پھر سیدنا کعب نے کہا: اے ابوہریرہ! کیا تمہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا کہ اللہ کے یہ نبی کون تھے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں۔ کعب نے کہا: وہ سیدنا یوشع بن نون علیہ السلام تھے۔ پھر انہوں نے پوچھا: کیا تمہیں یہ بتایا کہ وہ علاقہ کونسا تھا؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں۔ کعب نے کہا: یہ ” اریحاء “ شہر تھا۔ ٭٭ یہ حدیث غریب صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2651]
حدیث نمبر: 2652
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد بن يحيى الشهيد، حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن عَرْعَرة السامي، حدثنا أزهر (1) بن سعْد السَّمّان، حدثنا ابن عَون، عن محمد، عن (2) عُبيدة، عن علي، قال: قال النبي ﷺ في الأُسارى يوم بدرٍ:"إن شئتم قَتلْتُموهم، وإن شئتم فاديتُم، واستمتعتُم بالفِداء، واستُشهِد منكم بعِدَّتهم"، فكان آخرَ السبعين ثابتُ بنُ قيس، استُشهِد باليَمامة (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2619 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2619 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: غزوۂ بدر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگی قیدیوں کے متعلق فرمایا: اگر تم ان کو قتل کرنا چاہو تو قتل کر دو اور اگر ان سے فدیہ لینا چاہو تو وہ لے لو، اور فدیہ سے تم فائدہ حاصل کرو اور ان کی تعداد کے برابر تم میں سے بھی شہید ہوں گے چنانچہ ان سے سترہویں شہید ثابت بن قیس تھے جو کہ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2652]
حدیث نمبر: 2653
أخبرني عبد الله بن سعد الحافظ، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا عمرو بن علي وأحمد بن المِقْدام، قالا: حدثنا أبو بحر البَكْراوي، حدثنا شعبة، حدثنا أبو العَنْبس، عن أبي الشَّعْثاء، عن ابن عباس، قال: جعلَ رسولُ الله ﷺ في فِداء الأُسارى أهلِ الجاهلية أربعَ مئة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2620 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2620 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ جاہلیت کے قیدیوں کا فدیہ چار سو (درہم) مقرر کیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2653]