🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ
اہلِ بغاوت سے قتال کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2676
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب الأُموي، حدثنا محمد بن سنان القَزّاز، حدثنا عبد الله بن خُمْران، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، أخبرني أبي، عن عمر بن الحَكَم، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، قال: أتى رسولَ الله ﷺ رجلٌ وهو يَقسِمُ تمرًا يوم حُنين، فقال: يا محمد، اعدِلْ، قال:"وَيحَك ومَن يعدلُ عليك إذا لم أعدِلْ؟" أو"عند مَن تلتمِسُ العدْلَ بعدي؟" ثم قال:"يُوشِكُ أن يأتيَ قومٌ مثلُ هذا، يَسألُون كتابَ الله وهم أعداؤه، يقرؤون كتابَ الله، محلَّقةً رؤوسُهم، فإذا خَرجُوا فاضرِبُوا رقابَهم" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2644 - محمد بن سنان كذبه أبو داود وغيره
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین کے دن کھجوریں تقسیم فرما رہے تھے کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے محمد! عدل کیجیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھ پر افسوس! اگر میں عدل نہیں کروں گا تو تیرے لیے اور کون عدل کرے گا؟ یا فرمایا: میرے بعد تم کس کے پاس عدل تلاش کرو گے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب اس شخص جیسے لوگ پیدا ہوں گے جو اللہ کی کتاب (کا واسطہ دے کر) سوال کریں گے حالانکہ وہ اس کے دشمن ہوں گے، وہ اللہ کی کتاب پڑھیں گے، ان کے سر منڈے ہوئے ہوں گے، پس جب وہ نکلیں (بغاوت کریں) تو ان کی گردنیں اڑا دو۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2676]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل محمد بن سنان القزاز، وقد توبع.» [ترقيم الرساله 2676] [ترقيم الشركة 2659] [ترقيم العلميه 2644]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں