🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

25. مَنْ قُتِلَ أَوْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ
جو اللہ کی راہ میں قتل ہو یا مر جائے وہ جنت میں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2759
حدثنا أبو بكر محمد بن جعفر بن يزيد الأَدَمي القارئ ببغداد، حدثنا عبد الله بن الحسن الهاشمي، حدثنا يزيد بن هارون. وأخبرني أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببُخارى، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا عبد الله بن أبي شَيْبة وزهير بن حَرْب، قالا: حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا عبد الله بن عَوْن، عن ابن سِيرين، عن أبي العَجْفاء السُّلَمي، قال: خَطَبَنا عمرُ بن الخطّاب فقال: ألا لا تُغالُوا صُدُقَ النساء، فإنها لو كانت مَكرُمةً في الدنيا أو تقوى عند الله كان أَوْلاكم بها وأحقَّكم بها محمدٌ ﷺ، ما أصْدَقَ امرأةً من نسائه أكثرَ من ثِنتَي عشرةَ أُوقيّةً، وإن أحدَكم ليُغْلي بصَدُقةِ امرأتِه، حتى يكون لها عداوةٌ في نفسِه، ويقول: قد كَلِفْتُ إليك عَلَقَ (1) القِرْبة. وأخرى تقولونها لمن قُتل في مغازيكم هذه لو ماتَ: قُتِلَ فلان شهيدًا، ومات فلان شهيدًا، وعسى أن يكون قد أَثقَلَ عَجُزَ دابّته أو دفَّ راحلتِه (2) ذهبًا ووَرِقًا يبتغي الدنيا، فلا تقولوا ذلك، ولكن قولوا كما قال رسول الله ﷺ:"مَن قُتِل أو مات في سبيل الله، فهو في الجنّة" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه أيوب السَّخْتياني وحبيب بن الشَّهيد (1) وهشام بن حسّان وسلَمة بن علقمة (2) ومنصور بن زاذان وعوف بن أبي جَميلة (3) ويحيى بن عَتيق، كلُّ هذه التراجم من رواياتٍ صحيحةٍ عن محمد بن سِيرين. وأبو العَجْفاء السُّلَمي اسمه هَرِم بن حيّان، وهو من الثِّقات.
سیدنا ابوالعجفاء سلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: خبردار! عورتوں کا حق مہر بہت زیادہ مقرر نہ کیا کرو۔ اس لیے کہ اگر یہ دنیا میں کوئی باعث عزت و تکریم یا عنداللہ تقویٰ کی بات ہوتی تو تم سب سے زیادہ اس بات کے مستحق محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کا حق مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ نہیں رکھا۔ تم لوگ عورت کا مہر بہت زیادہ مقرر کرتے ہو، اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شوہر کے دل میں اس عورت کے متعلق نفرت بیٹھ جاتی ہے۔ اور وہ کہتا ہے کہ مجھے تجھ سے بہت شدید تکلیف اٹھانا پڑی ہے۔ اور ایک بات مزید یہ ہے کہ تم ان جنگوں میں قتل ہونے والے کے بارے میں کہتے ہو کہ وہ شہید مرا ہے، ہو سکتا ہے اس کی سواری کی پچھلی جانب خالی ہو اور وہ دنیا کی طلب میں اپنی سواری کو سونے اور چاندی کے پیچھے بھگا رہا ہو، اس لیے ایسے مت بولا کرو بلکہ اس طرح کہا کرو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے مر جائے یا قتل کر دیا جائے وہ جنتی ہے ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ ایوب سختیانی، حبیب الشہید، ہشام بن حسان، سلمہ بن علقمہ، منصور بن زاذان، عوف بن ابی جمیلہ اور یحیی بن عقیق نے اسی عنوان کے تحت محمد بن سیرین کے حوالے سے صحیح روایات نقل کی ہیں۔ اور ابوالعجفاء سلمی کا نام ہرم بن حیان ہے اور ان کا شمار ثقہ راویوں میں ہوتا ہے۔ اور یہی حدیث سالم بن عبداللہ اور نافع کے حوالے سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے صحیح سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ سالم کی حدیث۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2759]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2759M
سمعت أبا العباس محمد بن يعقوب يقول: سمعتُ العباس بن محمد الدُّوري يقول: سمعت يحيى بن مَعين يقول: حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، قال: اسمُ أبي العَجْفاء هَرِم. وقد روي هذا الحديث من رواية مستقيمة عن سالم بن عبد الله ونافع عن ابن عمر. أما حديث سالم:
عباس بن محمد دوری بیان کرتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ہمیں عبدالرحمن بن مہدی نے بیان کیا کہ: ابوالعجفاء کا نام ہرم ہے۔ اور یہ حدیث سالم بن عبداللہ اور نافع کے واسطے سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک درست (مستقیم) روایت کے طور پر بھی مروی ہے۔ جہاں تک سالم کی حدیث کا تعلق ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2759M]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں