🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. طَلَاقُ الْمَرْأَةِ بِأَمْرِ الْأَبَوَيْنِ
والدین کے کہنے پر عورت کو طلاق دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2834
أخبرنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد الأسَدي الحافظ بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا ابن أبي ذِئْب، حدثني خالي الحارث بن عبد الرحمن، عن حمزة بن عبد الله بن عمر، عن أبيه، قال: كانت تحتي امرأةٌ أُحبُّها، وكان عمر يكرهُها، فقال عمر: طلِّقْها، فأبَيتُ، فذَكَر ذلك للنبي ﷺ، فقال:"أطِعْ أباكَ وطلِّقْها"، فطلَّقتُها (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. والحارث بن عبد الرحمن هو: ابن أبي ذُباب المدني خالُ ابن أبي ذئب، قد احتجّا جميعًا به!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2798 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میرے نکاح میں ایک عورت تھی جس سے میں محبت کرتا تھا، جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے ناپسند کرتے تھے، تو انہوں نے مجھ سے کہا: اسے طلاق دے دو، میں نے انکار کیا، پھر انہوں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے والد کی اطاعت کرو اور اسے طلاق دے دو، چنانچہ میں نے اسے طلاق دے دی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ حارث بن عبدالرحمن مدنی، ابن ابی ذئب کے ماموں ہیں اور شیخین نے ان سے احتجاج کیا ہے! [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2834]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد من أجل الحارث بن عبد الرحمن - وهو القرشي العامري - فهو صدوق لا بأس به، وليس هو بابن أبي ذُباب، كما جزم به المصنف بإثر الحديث، وبنَى عليه أن الشيخين قد احتجا به، على أنَّ ابن أبي ذُباب من رجال مسلم وحده، وإنما أخرج له البخاري في ...» [ترقيم الرساله 2834] [ترقيم الشركة 2814] [ترقيم العلميه 2798]

الحكم على الحديث: إسناده جيد من أجل الحارث بن عبد الرحمن - وهو القرشي العامري - فهو صدوق لا بأس به
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2835
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا إسماعيل، أخبرنا عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن السُّلَمي: أنَّ رجلًا أتى أبا الدَّرْداء، فقال: إنَّ أمي لم تَزَلْ بي حتى تزوجتُ، وإنها تأمُرُني بطلاقِها، وقد أبَتْ عَلَيَّ إلّا ذاك، فقال: ما أنا بالذي آمُرُك أن تَعُقَّ والدتَك، ولا أنا بالذي آمُرُك أن تُطلِّق امرأتَك غير أنك إن شئتَ حدثتُك بما سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"الوالدُ أوسَطُ أبواب الجنة"، فحافِظْ على ذلك الباب إن شئتَ أو أَضِعْه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2799 - صحيح
ابوعبدالرحمن سلمی سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا: میری والدہ میرا پیچھا نہیں چھوڑتیں یہاں تک کہ میں نے شادی کر لی، اور اب وہ مجھے اسے طلاق دینے کا حکم دیتی ہیں، تو انہوں نے فرمایا: میں وہ نہیں ہوں جو تمہیں اپنی والدہ کی نافرمانی کا حکم دوں، اور نہ ہی میں تمہیں اپنی بیوی کو طلاق دینے کا حکم دیتا ہوں، البتہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں وہ حدیث سنا دوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: والد (والدین) جنت کا درمیانی دروازہ ہے، اب تمہاری مرضی ہے کہ اس دروازے کی حفاظت کرو یا اسے ضائع کر دو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2835]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، لكن أبا عبد الرحمن السُّلَمي - واسمه عبد الله بن حبيب - لم يسمع هذا الحديث من أبي الدرداء، كما توضحه رواية سفيان الثَّوري وحماد بن زيد، وهما ممن سمع من عطاء بن السائب قبل تغيُّره، حيث قالا في روايتهما: إنَّ هذا الرجل رحل إلى أبي الدرداء بالشام، ...» [ترقيم الرساله 2835] [ترقيم الشركة 2815] [ترقيم العلميه 2799]

الحكم على الحديث: رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں