🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

57. قِصَّةُ عُزَيْرٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ
سیدنا عزیر علیہ السلام کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3154
[أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا] (2) أحمد بن مهران، حدثنا عبيد الله ابن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق عن ناجيةَ بن كعب، عن عليٍّ قال: خرج عُزيرٌ نبيُّ الله من مدينتِه وهو رجل شابٌّ، فمرَّ على قرية وهي خاويةٌ على عُروشِها، قال: أنَّى يُحْيي هذه اللهُ بعد موتها، فأماته الله مئةَ عام ثم بَعَثَه، فأولُ ما خلق عيناه (1) ، فجعل يَنظُر إلى عظامه، يُنظَمُ بعضها إلى بعض، ثم كُسِيَت لحمًا، ونُفِخَ فيه الرُّوحُ، فقيل له: كم لَبِثْتَ؟ قال: يومًا أو بعضَ يوم، قال: بل لبثتَ مئةَ عام، فأتى المدينة وقد تَرَكَ جارًا له إسكافًا شابًا، فجاء وهو شيخٌ كبير (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3117 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کے نبی سیدنا عزیر علیہ السلام جب اپنے شہر سے نکلے تو وہ نوجوان تھے۔ ان کا گزر ایک تباہ شدہ بستی سے ہوا، وہ کہنے لگے: اللہ تعالیٰ اس کو مرنے کے بعد دوبارہ کیسے زندہ کرے گا؟ اللہ تعالیٰ نے ان کو سو سال تک فوت کیے رکھنے کے بعد پھر زندہ کیا، سب سے پہلے ان کی آنکھوں کو زندہ کیا، انہوں نے اپنی آنکھوں سے اس منظر کا خود مشاہدہ کیا کہ ان کی بکھری ہوئی ہڈیاں کس طرح ایک دوسری کے ساتھ ملیں، پھر ان پر گوشت چڑھایا گیا، پھر ان میں روح ڈالی گئی، تو اب بھی وہ نوجوان تھے، ان سے پوچھا گیا: تم کتنا عرصہ یہاں ٹھہرے ہو؟ وہ بولے: ایک دن یا دن کا کچھ حصہ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (نہیں) بلکہ تم تو سو سال یہاں رہے ہو پھر وہ شہر میں آئے تو وہ اپنے پڑوس میں ایک موچی کو نوجوان چھوڑ کر گئے تھے، وہ بہت ہی بوڑھا ہو چکا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3154]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں