المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
69. شَرْحُ: (أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ)
آیت“سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا”کی تشریح
حدیث نمبر: 3192
حدثنا بكر بن محمد الصَّيْرفي بمَرْو، حدثنا أحمد حيَّان بن مُلاعِب، حدثنا عبيد الله بن موسى ومحمد بن سابق قالا حدثنا إسرائيل، حدثنا سِماك (1) بن حَرْب، عن خالد بن عَرعَرة قال: سأل رجلٌ عليًّا عن: ﴿إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا﴾ [آل عمران: 96] أهو أول بيت بُنِيَ في الأرض؟ قال: لا، ولكنه أولُ بيت وُضِعَ فيه البركةُ والهدى، ومَقامُ إبراهيم، ومن دخله كان آمنًا، وإن شئتَ أنبأتُك كيف بَناه (2) : إنَّ الله ﷿ أَوحَى إلى إبراهيم: أنِ ابنِ لي بيتًا في الأرض، فضاق به ذَرْعًا، فأرسل الله إليه السَّكينةَ، وهي ريحٌ خَجُوجٌ، لها رأس، فأتبَعَ أحدُهما صاحبَه حتى انتهت ثم تطوَّقَت إلى موضع البيت تطوُّقَ الحيَّة، فبنى إبراهيمُ، فكان يبني هو سافًا كلَّ يوم، حتى إذا بلغ مكانَ الحَجَر قال لابنه: ابغِني حَجَرًا، فالتَمَسَ ثَمَّ حجرًا حتى أتاه به، فوجد الحجرَ الأسودَ قد رُكّبَ، فقال له ابنه: من أين لك هذا؟ قال: جاء به مَن لم يَتَّكِل على بنائِك، جاء به جبريلُ ﵇ من السماءِ (1) فأتمَّه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3154 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3154 - على شرط مسلم
سیدنا خالد بن عرعرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کسی آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبَارَکًا (آل عمران: 96) ” بیشک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا “۔ (اس آیت میں جس گھر کا تذکرہ ہے۔ کیا اس سے مراد) وہ گھر ہے جو زمین میں سب سے پہلے تعمیر کیا گیا؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ بلکہ وہ گھر جس میں سب سے زیادہ برکت اور ہدایت رکھی گئی ہے، اس میں مقام ابراہیم ہے جو اس میں داخل ہو جاتا ہے، وہ امن والا ہو جاتا ہے اور اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کیسے بنایا، اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ وہ زمین میں میرا ایک گھر بنائیں۔ آپ کو اس کی پیمائش کا پتہ نہیں تھا (اس پر آپ کچھ پریشان ہو گئے) تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سکینہ بھیجی اور یہ ایک تیز ہوا تھی جس کا ایک سرا تھا، تو ان میں سے ایک اپنے ساتھی کے پیچھے چلا یہاں تک کہ وہ ہوا رُک گئی اور سانپ کی طرح سکڑ کر بیت اللہ کے مقام پر ٹھہر گئی۔ پھر سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اس کو بنانا شروع کیا جب تعمیر حجرِاسود کے مقام تک پہنچی تو آپ نے اپنے بیٹے سے فرمایا: کوئی پتھر ڈھونڈھ کر لاؤ، وہ ایک پتھر ڈھونڈ کر لے آئے جو کہ ” حجرِاسود “ تھا۔ آپ نے اپنے بیٹے سے پوچھا: تجھے یہ کہاں سے ملا ہے؟ انہوں نے جواباً کہا: یہ پتھر وہ شخصیت لے کر آئی ہے جو آپ کی تعمیر کی محتاج نہیں ہے، یہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام لائے ہیں، سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اس (بیت اللہ) کی تعمیر کو مکمل کر دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3192]