🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

92. سُؤَالُ قُرَيْشٍ أَنْ يُجْعَلَ لَهُمُ الصَّفَا ذَهَبًا
قریش کا مطالبہ کہ صفا پہاڑ کو ان کے لیے سونا بنا دیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3264
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، حدثنا سفيان، عن سَلَمة بن كُهيل، عن عِمران بن الحكم، عن ابن عبَّاس قال: قالت قريشٌ للنبي ﷺ: ادعُ اللهَ ربَّك أن يجعلَ لنا الصَّفا ذهبًا، ونُؤمِنَ بك، قال:"أوَتفعلون؟" قالوا: نعم، قال: فدَعَا الله، فأتاه جبريل فقال:"إنَّ ربك يَقرأُ عليك السلامَ ويقول: إن شئتَ أصبح لهم الصفا ذهبًا، فمن كَفَرَ منهم عذَّبتُه عذابًا لا أعذِّبُه أحدًا من العالمين، وإن شئت فتحتُ لهم أبوابَ التوبة والرحمة" قال:"يا ربِّ، بابُ التوبةِ والرَّحمة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. [6 - تفسير سورة الأنعام]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3225 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: قریش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمائش کی کہ آپ اپنے رب سے یہ دعا مانگیں کہ وہ صفا پہاڑ کو سونا بنا دے (اگر ایسا ہو جائے تو) ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (کیا واقعی تم) ایمان لے آؤ گے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگی۔ سیدنا جبریل امین علیہ السلام آپ کے پاس تشریف لائے اور کہنے لگے: آپ کا رب آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے: اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو میں ان کے لیے صفا پہاڑ سونا بنا دیتا ہوں (لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ اگر اس کے بعد) پھر کسی نے کفر کیا تو میں ان کو ایسا عذاب دوں گا کہ اس کائنات میں کسی کو ایسا عذاب نہیں دیا ہو گا اور اگر آپ چاہیں تو میں ان کے لیے توبہ اور رحمت کے دروازے کھول دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کی: اے میرے رب! رحمت اور توبہ کے دروازے (کھول دے)۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3264]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں