المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
118. رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ
نبی ﷺ کا جبرائیل اور میکائیل علیہما السلام کو خواب میں دیکھنا
حدیث نمبر: 3338
حدثني أبو الطيِّب طاهر بن يحيى البَيهَقي بها من أصل كتاب خالِه، حدثنا خالي الفضل بن محمد البَيهقي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني الليث، حدثني خالد بن يزيد، عن سعيد بن أبي هلال قال: سمعت أبا جعفر محمدَ بنَ علي بن الحسين وتَلَا هذه الآية: ﴿وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى دَارِ السَّلَامِ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾ [يونس:25] ، فقال: حدثني جابر بن عبد الله قال: خَرَجَ علينا رسول الله ﷺ يومًا فقال:"إني رأيتُ في المنام كأنَّ جبريلَ عند رأسي وميكائيلَ عند رِجليَّ، يقول أحدُهما لصاحبه: اضرِبْ له مَثَلًا، فقال له: اسمَعْ سَمِعَتْ أُذنُك، واعقِلْ عَقَلَ قلبُك، إنما مَثَلُك ومثلُ أُمَّتِك كمَثلِ مَلِكٍ اتَّخذَ دارًا ثم بَنَى فيها بيتًا، ثم جعل فيها مَأدُبةً، ثم بَعَث رسولًا يدعو الناسَ إلى طعامهم، فمنهم مَن أجاب الرسولَ، ومنهم مَن تَرَك، فاللهُ: هو الملِك، والدارُ: الإسلام، والبيتُ: الجنَّة، وأنت يا محمدُ الرسولُ، من أجابك دَخَلَ الإسلام، ومن دخل الإسلامَ دخل الجنَّة، ومن دخل الجنَّةَ أَكلَ منها" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3299 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3299 - صحيح
سیدنا سعید بن ابی ہلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ابوجعفر محمد بن علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: وَاللّٰہُ یَدْعُوْآ اِلٰی دَارِ السَّلٰمِ وَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (یونس: 25) ” اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف پکارتا ہے اور جسے چاہے سیدھی راہ چلاتا ہے “۔ پھر کہا: مجھے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا: میں نے آج رات خواب میں دیکھا ہے کہ سیدنا جبریل علیہ السلام میرے سر کی جانب اور سیدنا میکائیل علیہ السلام میرے قدموں کی جانب کھڑے ہیں، ان میں سے ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا: ان کے لیے کوئی مثال دیں۔ دوسرے نے کہا: توجہ سے سنو اور دل سے سمجھنے کی کوشش کرو ” آپ کی اور آپ کی امت کی مثال ایسے ہے جیسے کسی بادشاہ نے ایک محل بنوایا ہو اور اس میں ایک (خوبصورت وسیع) مکان ہو پھر اس میں دسترخوان لگائے پھر وہ قاصد کو بھیجے جو لوگوں کو کھانے کی دعوت دے کر آئے۔ لوگوں میں سے کچھ تو دعوت کو قبول کر لیں اور کچھ قبول نہ کریں۔ تو اللہ تعالیٰ بادشاہ ہے اور محل اسلام ہے اور مکان جنت ہے اور اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ قاصد ہو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کر لے، وہ اسلام میں داخل ہو گیا اور جو اسلام میں داخل ہو گیا، وہ جنت میں داخل ہو گیا اور جو جنت میں داخل ہو گا وہ اس دسترخوان سے کھائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3338]