🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

143. أَجْمَعُ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ لِلْخَيْرِ وَالشَّرِّ
قرآن کی سب سے جامع آیت جو خیر اور شر دونوں کو بیان کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3398
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا المُعتمِر بن سليمان قال: سمعت منصورَ بن المعتمِر يُحدِّث عن عامرٍ قال: جَلَسَ شُتَيرُ بن شَكَل ومسروقُ بن الأجدَع، فقال أحدهما لصاحبه: حَدِّثْ بما سمعتَ من عبد الله وأُصدِّقُك أو أحدِّثُك وتصدِّقني، قال: سمعتُ عبدَ الله يقول: إنَّ أَجمَعَ آيةٍ في القرآن للخير والشرِّ في سورة النحل: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ﴾ [النحل: 90] ، قال: صدقتَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3358 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دفعہ شتیر بن شکل رضی اللہ عنہ اور مسروق بن الاجدع رضی اللہ عنہ بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: تم کوئی عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کرو جس کی میں تصدیق کروں یا میں تمہیں روایت سناتا ہوں اور تم میری تصدیق کرنا۔ اس نے کہا: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قرآن پاک میں خیر و شر کی سب سے زیادہ جامعہ آیت سورۃ النحل میں ہے (وہ یہ ہے): اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰی وَ یَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَ الْمُنْکَرِ وَ الْبَغْیِ یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ (النحل: 90) بے شک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی اور رشتہ داروں کے دینے کا اور منع فرماتا ہے بے حیائی اور بری بات اور سرکشی سے تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان دو انہوں نے کہا: تم نے بالکل سچ کہا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3398]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3399
أخبرنا الحسن بن حَلِيم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا عُيَيْنة بن عبد الرحمن الغَطَفَاني، عن أبيه، عن أبي بَكْرة قال: قال رسول الله ﷺ:"ما من ذَنبٍ أجدَرُ أن تُعجَّلَ لصاحبِه العقوبةُ في الدنيا، مع ما يُدَّخَرُ له في الآخرة، من البَغْي وقَطِيعةِ الرَّحِم" (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3359 - صحيح
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بغاوت اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی ایسا گناہ نہیں ہے جس کی سزا دنیا میں بھی ملتی ہے اور آخرت میں بھی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3399]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3400
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا يعقوب بن يوسف القَزْويني، حدثنا محمد بن سعيد بن سابق، حدثنا عَمرو بن أبي قيس، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس: ﴿فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً﴾ [النحل: 97] ، قال: القُنُوع، قال: وكان رسول الله ﷺ يَدعُو يقول:"اللهمَّ قَنِّعْني بما رَزَقْتني، وبارِكْ لي فيه، واخلُفْ عليَّ كلَّ غائبة (2) لي بخيرٍ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3360 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، اللہ تعالیٰ کے ارشاد: فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً (النحل: 97) تو ضرور ہم اسے اچھی زندگی جِلائیں گے ۔ کے متعلق فرماتے ہیں: اس سے مراد قناعت والی زندگی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا مانگا کرتے تھے: اے اللہ! تو نے مجھے جو کچھ دیا ہے، مجھے اس پر قناعت کرنے کی توفیق عطا فرما اور میرے لیے اس میں برکت ڈال اور میرے لیے ہر غائب چیز میں بھلائی کے ساتھ نائب بنا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3400]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3401
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا علي بن الحسين بن واقدٍ، حدثني أَبي، عن يزيد النَّحْوي، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ﴾ الآية [البقرة: 106] ، وقال في سورة النحل: ﴿وَإِذَا بَدَّلْنَا آيَةً مَكَانَ آيَةٍ﴾ [النحل: 101] ، وقال في قوله ﷿: ﴿ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا فُتِنُوا﴾ الآية [النحل: 110] ، قال: هو عبد الله بن سَعْد - أو غيرُه - الذي كان واليًا بمصرَ يَكتُبُ لرسول الله ﷺ، فزَلَّ فلَحِقَ بالكفَّار، فأَمَرَ به رسولُ الله ﷺ أن يُقتَلَ يومَ الفتح، فاستجار [له] عثمانُ بنُ عفَّان رسولَ الله ﷺ، فأجاره رسولُ الله ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3361 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، اللہ تعالیٰ کے ارشاد: مَا نَنْسَخْ مِنْ ایَۃٍ (البقرۃ: 106) جب کوئی آیت ہم منسوخ فرمائیں ۔ اور سورۃ النحل میں فرمایا: وَاِذَا بَدَّلْنَآ اٰیَۃً مَّکَانَ اٰیَۃٍ (النحل: 101) اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیں ۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیْنَ ہَاجَرُوْا مِنْ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا (النحل: 110) پھر بے شک تمہارا رب ان کے لیے جنہوں نے اپنے گھر چھوڑے بعد اس کے کہ ستائے گئے ۔ (،) کے متعلق فرماتے ہیں: یہ عبداللہ بن سعد یا کوئی دوسرا آدمی ہے جو کہ والی مصر تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کاتب تھا، پھر یہ مرتد ہو گیا اور کافروں میں جا ملا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن اس کے قتل کا حکم فرما دیا تھا لیکن سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے پناہ مانگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پناہ دے دی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3401]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں