المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
145. قِصَّةُ الْحُجْرِ الْمَدَرِيِّ حِينَ أُجْبِرَ عَلَى لَعْنَةِ عَلِيٍّ ثُمَّ لَعَنَ آمِرَهُ بِحُسْنِ الْقَوْلِ
حجر مدری کا واقعہ جب انہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر لعنت پر مجبور کیا گیا تو انہوں نے آمر پر حسنِ کلام کے ساتھ لعنت کی
حدیث نمبر: 3406
حدثنا أبو أحمد بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيْرَفي بمَرْوٍ من أصل كتابه، حدثنا أبو محمد عُبيد بن قُنفُذ البزَّار، حدثنا يحيى بن عبد الحميد الحِمَّاني، حدثنا سفيان بن عُيَينة، عن عبد الله بن طاووس، عن أبيه قال: كان حُجْرُ بن قيس المَدَريُّ من المختصِّين بخِدْمة أمير المؤمنين علي بن أبي طالب، فقال له عليٌّ يومًا: يا حُجْر، إنك تُقامُ بعدي فتُؤمرُ بلَعْني فالعَنِّي، ولا تَتبرَّأْ مني. قال طاووس: فرأيتُ حُجْرًا المَدَريَّ وقد أقامه أحمدُ بن إبراهيم خليفةُ بني أُميَّة في الجامع ووُكِّلَ به ليَلعَنَ عليًّا أو يُقتَل، فقال حُجْر: أَمَا إنَّ الأميرَ أحمد بن إبراهيم أَمَرني أن ألعَنَ عليًّا فالعَنُوه، لَعَنَه الله، فقال طاووس: فلقد أعمى الله قلوبَهم حتى لم يَقِفْ أحدٌ منهم على ما قال (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3366 - يحيى الحماني ضعيف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3366 - يحيى الحماني ضعيف
سیدنا طاؤس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حجر بن قیس المددی امیرالمومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے خاص خدمت گزاروں میں سے ہیں، ایک دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میرے بعد تجھے کھڑا کیا جائے گا اور تجھے مجھ پر لعنت کرنے پر مجبور کیا جائے گا تو تم مجھ پر لعنت کر لینا لیکن مجھ سے برات کا اظہار نہیں کرنا۔ ٭٭ سیدنا طاؤس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے حجر المدری کو دیکھا کہ بنوامیہ کے خلیفہ احمد بن ابراہیم نے ان کو جامع مسجد میں کھڑا کیا اور ایک آدمی کو ان پر مسلط کر دیا کہ یہ شخص یا تو علی کو گالیاں دے ورنہ اس کی گردن مار دی جائے۔ حجر کھڑے ہوئے اور بولے: امیراحمد بن ابراہیم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر لعنت کروں تو تم ” اس “ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت کرو۔ سیدنا طاؤس کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ایسا اندھا کر دیا کہ ان میں سے ایک آدمی بھی یہ سمجھ ہی نہ سکا کہ حجر ان کو کیا کہہ گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3406]
حدیث نمبر: 3407
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا سفيان. وأخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا الثَّوْري، عن فِراس، عن الشَّعْبي، عن مسروق قال: قرأتُ عند عبد الله بن مسعود: ﴿إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا﴾ [النحل: 120] ، قال: فقال ابنُ مسعود: إنَّ معاذًا كان أُمةً قانتًا، قال: فأعادُوا عليه فأعادَ، ثم قال: أتدرُونَ مَا الأُمَّة؟ الأُمَّةُ الذي يُعلِّم الناسَ الخيرَ، والقانتُ الذي يُطِيع اللهَ ورسولَه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3367 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3367 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا مسروق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس پڑھا: اِنَّ اِبْرَاھِیْمَ کَانَ اُمَّۃً قَانِتًا لِّلّٰہِ (النحل: 120) ” بیشک ابراہیم علیہ السلام ایک امام تھا اللہ کا فرمانبردار۔ “ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ” امۃ قانتا “ تھے (راوی) کہتے ہیں: لوگوں نے دوبارہ آیت کی تلاوت کی تو آپ نے دوبارہ وہی بات دہرائی۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ ” امۃ “ سے کیا مراد ہے؟ اس سے مراد وہ شخص ہے جو لوگوں کو بھلائی سکھائے اور قانت وہ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3407]