🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

147. تَفْسِيرُ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ
سورۂ بنی اسرائیل کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3409
أخبرنا جعفر بن محمد بن نُصَير الخوَّاص، حدثنا علي بن عبد العزيز البَغَوي، حدثنا عمرو بن عَوْن، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، عن عاصم بن أبي النَّجُود، عن زِرِّ بن حُبَيش قال: كنت في مَجلس فيه حُذَيفةُ بن اليَمَان، فقلتُ: إنَّ رسول الله ﷺ حيث أُسرِيَ به دَخَلَ المسجدَ الأقصى، قال: فقال حُذَيفة: وكيف عَلِمتَ ذلك يا أَصلَعُ؟ فإني أعرفُ وجهَك ولا أدري ما اسمُك، فما اسمُك؟ فقلت له: أنا زِرُّ بن حُبَيش الأَسَديّ، قال: ثم قال: كيف عَلِمتَ أنه دَخَلَ المسجدَ؟ قال: فقلت: بالقرآن، فقال حذيفةُ: فمَن أَخَذَ بالقرآن فَلَحَ، قال: فقرأتُ: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ﴾ [الإسراء: 1] ، فقال حذيفةُ: هل تُرَاه أنه دَخَلَه؟ فقلت: أَجل، فقال: والله ما دَخَلَه، ولو دَخَلَه لكُتِبَ عليكم الصلاةُ فيه، قال: ثم قال: ولا يُفارِقُ ظَهْرَ البُراقِ حتى رأى الجنةَ والنارَ، ووَعْدَ الآخرةِ أَجمَعَ، قال: قلت: يا أبا عبد الله، فما البراقُ؟ قال: دابَّةٌ فوقَ الحمارِ ودونَ البَغْلةِ، خَطْوتُه مدَّ بَصَرِه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3369 - صحيح
سیدنا زربن حبیش رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: میں ایک مجلس میں تھا جس میں سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ میں نے کہا: معراج کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے تھے۔ اس پر سیدنا حذیفہ نے کہا: اے اصلع (وہ شخص جس کے سر کے اگلی جانب کے بال جھڑ گئے ہوں) یہ بات تجھے کیسے معلوم ہوئی؟ کیونکہ میں تیرا چہرہ تو پہچانتا ہوں لیکن مجھے تیرا نام معلوم نہیں ہے۔ تو تیرا نام کیا ہے؟ میں نے کہا: میں زربن حبیش اسدی ہوں، انہوں نے پھر پوچھا: تجھے یہ کیسے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے اندر بھی گئے تھے؟ میں نے کہا: قرآن پاک سے۔ سیدنا حذیفہ نے فرمایا: جو شخص قرآن کی تعلیمات اپناتا ہے وہ کامیاب ہوتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں پھر میں نے یہ آیت پڑھی: سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ ٰبرَکْنَا حَوْلَہٗ (الاسراء: 1) پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا مسجد حرام سے مسجد اقصی تک جس کے گرداگرد ہم نے برکت رکھی کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں ۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے تھے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا: خدا کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں داخل نہیں ہوئے تھے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے ہوتے تو اسی مسجد میں تم پر نماز فرض کر دی جاتی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت اور دوزخ کا مشاہدہ کیا اور آخرت کے تمام وعدے براق پر سوار ہونے کی حالت میں ہی کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں نے کہا: اے ابوعبداللہ! براق کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ایک جانور ہے جو گدھے سے کچھ بڑا اور خچر سے چھوٹا ہوتا ہے اور اس کا قدم حد نگاہ تک پہنچتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3409]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں