🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

214. تَطْبِيقُ ابْنِ عَبَّاسٍ بَيْنَ بَعْضِ الْآيِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بعض آیات کو باہم ملا کر سمجھانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3563
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرِير عن منصور، حدثني سعيد بن جُبَير قال: أمَرَني عبد الرحمن بن أبْزَى أن أسألَ ابنَ عبَّاس عن هاتين الآيتين ما أمُرهما: التي في سورة الفرقان: ﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ﴾ [الفرقان: 68] ، والتي في سورة النِّساء: ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ﴾ الآية [النساء: 93] ، قال: فسألتُ ابنَ عبّاس عن ذلك، قال: لما أُنزِلَ التي في سورة الفرقان قال مُشرِكو أهلِ مكة: فقد قتلنا النفسَ التي حَرَّم اللهُ بغير الحق، ودَعَوْنا مع الله إلهًا آخرَ وأَتَينا الفواحشَ، قال: فنزلت: ﴿إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ الآية [الفرقان: 70] ، قال: فهؤلاءِ لأولئك، قال: وأمَّا التي في سورة النساء: ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا﴾ الآية [النساء: 93] ، فهو الرجلُ الذي قد عَرَفَ الإسلامَ وعَمِلَ عملَ الإسلام ثم قَتَلَ مؤمنًا متعمِّدًا، فجزاؤُه جهنَّمُ لا توبةَ له. قال: فذكرتُ ذلك لمجاهدٍ، فقال: إلَّا مَن نَدِم (2) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه (1) !
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3521 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ان دو آیتوں کا شان نزول معلوم کرنے کا کہا۔ ایک تو سورۂ فرقان کی آیت ہے۔ وَالَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِٰلھًا ٰاخَرَ وَلَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ (الفرقان: 68) اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے اور اس جان کو جس کی اللہ نے حرمت رکھی ناحق نہیں مارتے ۔ اور دوسری آیت سورۃ النساء میں ہے: وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَھَنَّمُ (النساء: 93) اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے ۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے ان دونوں آیتوں کے متعلق سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: جب سورۂ فرقان والی آیت نازل ہوئی تو مکہ کے مشرکوں نے کہا: ہم نے تو ناحق قتل بھی کیے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی عبادت بھی کرتے ہیں اور ہم زناکار بھی ہیں (اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری بخشش کی کوئی گنجائش نہیں ہے) تب یہ آیت نازل ہوئی: اِلَّا مَنْ تَابَ وَ ٰامَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِھِمْ حَسَنٰتٍ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (الفرقان: 70) مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھا کام کرے تو ایسوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ آیت کے آخر تک پڑھا۔ آپ نے فرمایا: یہ حکم ان لوگوں کے لیے ہے اور وہ آیت جو سورۃ النساء میں ہے : مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا تو یہ اس شخص کے بارے میں ہے جو اسلام کو پہچانتا ہے اور مسلمانوں والے عمل کرتا ہے پھر کسی مومن کو جان بوجھ کر (ناحق) قتل کرتا ہے تو اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے، اس کی توبہ قبول نہیں ہے تو میں نے اس بات کا تذکرہ مجاہد سے کیا تو انہوں نے کہا: سوائے اس شخص کے جو نادم ہو گیا (یعنی جو نادم ہو گیا اور پھر توبہ کر لی اس کی توبہ پھر بھی قبول ہے) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3563]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3564
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا يحيى بن آدم، حدثنا ابن أبي زائدة، عن ابن جُرَيج، عن يَعلَى بن مُسلِم، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: قال رجل من أهل الشِّرك: يا رسولَ الله - وقد قَتَلوا فأَكَثروا، وزَنَوْا فأَكثَروا - ما أحسنَ ما تَدعُونا إليه لو أخبرتَنا أنَّ لِما عَمِلْنا كفَّارةً. فأنزل الله ﷿: ﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ﴾ الآية [الفرقان: 68] ، ونزلت: ﴿قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ﴾ إلى آخر الآية [الزمر: 53] (1) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! ﷽ [26 - ومن تفسير سورة الشعراء]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3522 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک مشرک شخص نے کہا: ہم لوگوں نے تو بہت قتل کیے ہیں اور بہت زنا کیے ہیں اور وہ چیز یہ بھی بہت اچھی ہے جس کی طرف آپ ہمیں بلاتے ہیں، اگر آپ ہمیں کوئی ایسی بات بتا دیں جو ہمارے ان اعمال کا کفارہ ہو (تو ہمارے دلوں کو سکون ہو جائے) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: وَالَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِٰلھًا ٰاخَرَ (الفرقان: 68) اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے الہ کی عبادت نہیں کرتے ۔ آخر تک اور یہ آیت بھی نازل ہوئی: قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ (الزمر: 53) اے محبوب آپ فرما دیں: اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3564]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں