🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

221. دُعَاءُ ابْنِ عُمَرَ فِي رُكُوعِهِ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا رکوع میں پڑھا جانے والا دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3575
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا مِسعَر، عن سعيد بن أبي بُرْدة، عن أبيه، قال: صلَّيتُ إلى جَنْب ابن عمرَ العصرَ فسمعتُه يقول في ركوعه: ﴿رَبِّ بِمَا أَنْعَمْتَ عَلَيَّ فَلَنْ أَكُونَ ظَهِيرًا لِلْمُجْرِمِينَ﴾ [القصص: 17] ، فلما انصرف قال: ما صلَّيتُ صلاةً إِلَّا وأنا أرجو أن تكون كَفَّارةً للَّتي أمامَها (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3533 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قریب کھڑے ہو کر نماز عصر ادا کی، میں نے آپ کو سنا کہ آپ رضی اللہ عنہ رکوع میں یہ دعا مانگ رہے تھے۔ رَبِّ بِمَآ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَکُوْنَ ظَھِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ (القصص: 17) اے میرے رب جیسا تو نے مجھ پر احسان کیا تو اب ہرگز میں مجرموں کا مددگار نہ ہوں گا ۔ جب آپ رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: میں جو بھی نماز پڑھتا ہوں، اس کے بارے میں یہ امید رکھتا ہوں کہ وہ میرے سابقہ گناہوں کا کفارہ ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3575]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3576
حدثنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي ببغداد، حدثنا محمد بن سعد العَوْفي، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا عوف، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري، عن رسول الله ﷺ قال:"ما أهلَكَ اللهُ قومًا ولا قَرْنًا ولا أُمّةً ولا أهلَ قريةٍ، منذُ أنزل اللهُ التوراةَ على وجه الأرض، بعذابٍ من السماء غيرَ القرية التي مُسِخَت قِرَدةً، ألم ترَ إلى قوله: ﴿وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ مِنْ بَعْدِ مَا أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولَى بَصَائِرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ﴾ [القصص: 43] " (1) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3534 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب سے اللہ تعالیٰ نے زمین پر توراۃ شریف نازل فرمائی ہے۔ کسی قوم، کسی قبیلہ، کسی امت اور کسی بستی والوں کو عذاب سماوی کے ساتھ ہلاک نہیں کیا، سوائے اس بستی والوں کے جن کے چہرے بندروں کی شکل میں بدل دیئے گئے تھے۔ کیا تم اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں دیکھتے ہو: وَلَقَدْ ٰاتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ مِنْ بَعْدِ مَآ اَھْلَکْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰی بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ ھُدًی وَّ رَحْمَۃً لَّعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ) (القصص: 43) اور بے شک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی بعد اس کے کہ اگلی سنگتیں (قومیں) ہلاک فرما دیں جس میں لوگوں کے دل کھول دینے والی باتیں اور ہدایت اور رحمت ہے تاکہ وہ نصیحت مانیں ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3576]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3577
حدثنا أبو الوليد الفقيه، حدثنا الحسن بن سفيان الشَّيباني، حدثنا عُقْبة بن مُكرَم الضَّبِّي، حدثنا أبو قَطَن عَمْرو بن الهيثم بن قَطَن بن كعب، حدثنا حمزة الزَّيّات، عن سليمان الأعمش، عن علي بن مُدرِك، عن أبي زُرْعة، عن أبي هريرة، ﴿وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّورِ إِذْ نَادَيْنَا﴾ القصص: 46] ، قال: نُودُوا: يا أُمَّةَ محمدٍ، استجبتُ لكم قبلَ أن تَدْعُوني، وأعطيتُكم قبلَ أن تَسألُوني (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3535 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَمَا کُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا (القصص: 46) اور نہ تم طور کے کنارے تھے جب ہم نے ندا فرمائی ۔ کے متعلق فرماتے ہیں: (اللہ تعالیٰ نے فرمایا) اے امت محمدیہ! تم مجھے پکارو رحمۃ اللہ علیہما میں تمہارے دعا کرنے سے پہلے تمہاری دعا کو قبول کروں گا اور تمہارے مانگنے سے پہلے تمہیں عطا کروں گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3577]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں