🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

238. " أَحَبُّ أَهْلِي إِلَيَّ فَاطِمَةُ "
میرے اہلِ خانہ میں مجھے سب سے زیادہ محبوب فاطمہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3604
حدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا هشام بن علي السَّدُوسي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا أبو عَوَانة، أخبرني عمر بن أبي سَلَمة، عن أبيه قال: حدثني أسامة بن زيد قال: كنتُ في المسجد فأتاني العبَّاسُ وعليٌّ فقالا لي: يا أسامةُ، استأذِنْ لنا على رسول الله ﷺ، فدخلتُ على النبي ﷺ فاستأذنتُه فقلت له: إنَّ العبَّاس وعليًّا يستأذِنانِ، قال:"هل تدري ما حاجَتُهما؟" قلت: لا والله ما أَدري، قال:"لكنِّي أَدْري، ائذَنْ لهما" فدخلا عليه، فقالا: يا رسول الله، جئناك نسألُك: أيُّ أهلِك أحبُّ إليك؟ قال:"أَحبُّ أهلي إليَّ فاطمةُ بنتُ محمدٍ" فقالا: يا رسول الله، ليس نسألُك عن فاطمةَ، قال:"فأسامةُ بنُ زيدٍ الذي أَنْعَمَ اللهُ عليه وأَنعمتُ عليه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3562 - عمر بن أبي سلمة ضعيف
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں مسجد میں تھا کہ میرے پاس سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے اور مجھ سے کہنے لگے: اے اسامہ رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے لیے اجازت مانگو، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور ان کے لیے اجازت طلب کی: میں نے عرض کی: عباس رضی اللہ عنہ اور علی رضی اللہ عنہ آپ کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ کس کام سے آئے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں خدا کی قسم مجھے معلوم نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہرحال میں جانتا ہوں۔ تم ان کو اندر آنے دو۔ چنانچہ وہ دونوں آپ کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ کی بارگاہ میں یہ پوچھنے کے لیے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ گھر والوں میں کس کے ساتھ سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ بنت محمد رضی اللہ عنہا سے۔ انہوں نے کہا: ہم آپ سے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے متعلق نہیں پوچھ رہے (بلکہ ان کے علاوہ بتایئے) آپ نے فرمایا: اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے، جس پر اللہ تعالیٰ نے بھی انعام فرمایا ہے اور میں نے بھی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3604]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3605
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العَدْل، حدثنا الحسين بن الفَضْل البَجَلي، حدثنا عفَّان بن مُسلِم، حدثنا حمّاد بن زيد، عن ثابت، عن أنس قال: جاء زيدُ بن حارثةَ يَشكُو إلى رسول الله ﷺ من زينب بنت جَحْش، فقال النبي ﷺ:"أَمسِكْ عليك أَهلَك"، فنزلت: ﴿وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ﴾ [الأحزاب: 37] (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3563 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی شکایت لے کر حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو تب یہ آیت نازل ہوئی: وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِکَ مَا اللّٰہُ مُبْدِیْہِ (الاحزاب: 37) اور تم اپنے دل میں رکھتے تھے وہ جسے اللہ کو ظاہر کرنا منظور تھا ۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3605]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں