المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
301. تَفْسِيرُ سُورَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سورۂ محمد ﷺ کی تفسیر
حدیث نمبر: 3745
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حَدَّثَنَا أحمد بن مِهْران، حَدَّثَنَا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي يحيى، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ﴾ [محمد: 1] ، قال: منهم أهل مكة، ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ [محمد: 2] ، قال: هم الأنصارُ، قال: ﴿وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ﴾، قال: أمْرَهم (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3703 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3703 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَضَلَّ اَعْمَالَھُمْ (محمد: 1) ” جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا اللہ نے ان کے اعمال برباد کیے۔“ کے متعلق فرماتے ہیں: ان میں سے اہل مکہ بھی ہیں اور وَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ) (محمد: 2) ” اور جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے اور اس پر ایمان لائے جو محمد پر اتارا ہے۔“ یہ انصار ہیں۔ اور وَ اَصْلَحَ بَالَھُمْ (محمد: 2) ” اور ان کی حالتیں سنوار دیں۔“ (سے مراد ہے) ان کے امور کی اصلاح فرما دی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3745]
حدیث نمبر: 3746
أخبرنا الحسن بن حَليم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا صفوان بن عمرو، عن عبد الله بن بُسْر، عن أبي أُمامة، عن النَّبِيّ ﷺ في قوله ﷿: ﴿وَيُسْقَى مِن مَّاءٍ صَدِيدٍ (16) يَتَجَرَّعُهُ﴾ [إبراهيم: 16 - 17] قال:"يُقرَّبُ إليه فيتكرَّهُه، فإذا أُدنيَ منه شَوَى وجهَه ووَقَعَ فروةُ رأسه، فإذا شربه قَطَّعَ أمعاءَه حتَّى يَخرُجَ من دُبُرِه" يقول الله ﷿: ﴿وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ﴾ [محمد: 15] ، يقول الله ﷿: ﴿وَإِن يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِى الوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ﴾ [الكهف: 29] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: «وَ یُسْقٰی مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍ یَّتَجَرَّعُہٗ) (ابراہیم: 16، 17) ” اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا، بمشکل اس کا تھوڑا تھوڑا گھونٹ لے گا۔“ کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں: وہ پانی ان کو دیا جائے گا تو وہ اس کو ناپسند کریں گے جب اس کو منہ کے قریب کریں گے تو ان کا چہرہ جھلس جائے گا اور اس کے سر کی کھال جھڑ کر اس میں گر جائے گی، جب وہ اس کو پئیں گے ان کی انتڑیاں پگھل کر پاخانے کے راستے نکل جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآئَھُمْ) (محمد: 15) ” اور انہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا کہ آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔“ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ کَالْمُھْلِ یَشْوِی الْوُجُوْہَ بِئْسَ الشَّرَابُ (الکھف: 29) ” اور اگر پانی کے لیے فریاد کریں تو ان کی فریاد رسی ہو گی اس پانی سے کہ چرخ دیے (کھولتے ہوئے) دھات کی طرح ہے کہ ان کے منہ بھون دے گا کیا ہی برا پینا ہے۔“ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3746]
حدیث نمبر: 3747
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا يحيى بن آدم، حَدَّثَنَا شَرِيك، عن عثمان أبي اليَقْظان، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قول الله ﷿: ﴿حَتَّى إِذَا خَرَجُوا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوا لِلَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ آنِفًا﴾ [محمد: 16] ، قال: كنتُ فيمن يُسأل (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3705 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3705 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد: حَتّٰٓی اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِکَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ ٰانِفًا (محمد: 16) ” یہاں تک کہ جب تمہارے پاس سے نکل کر جائیں علم والوں سے کہتے ہیں ابھی انہوں نے کیا فرمایا؟“ جن سے وہ پوچھتے تھے ان میں، میں بھی شامل تھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3747]