🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

313. لَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ
برے القاب سے ایک دوسرے کو پکارنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3766
حَدَّثَنَا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حَدَّثَنَا رَوْح بن عُبَادة، حَدَّثَنَا حمّاد بن سَلَمة، أخبرنا داود بن أبي هند، عن الشَّعْبي، عن أبي جَبِيرة بن الضَّحّاك في هذه الآية: ﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ﴾، قال: كانت الألقابُ في الجاهلية، فدَعَا النَّبِيُّ ﷺ رجالًا منهم بلَقَبه، فقيل له: يا رسول الله، إنه يَكرهُه، فأنزل الله ﷿: ﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ﴾ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3724 - على شرط مسلم
سیدنا ابوجبیرہ بن ضحاک رضی اللہ عنہ اس آیت: وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ) (الحجرات: 11) اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو۔ کے متعلق فرماتے ہیں: زمانہ جاہلیت میں لوگوں کے القاب ہوا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اس کے لقب سے پکارا۔ آپ سے کہا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ آدمی اس لقب کو ناپسند کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ) (الحجرات: 11) یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3766]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3767
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الوهاب الفَرَّاء، حَدَّثَنَا محمد بن الحسن المخزومي بالمدينة، حدثتني أمُّ سَلَمة بنت العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب، عن أبيها، عن جدِّها، عن أبي هريرة، أنَّ النَّبِيّ ﷺ قال:"إنَّ الله ﷿ يقول يومَ القيامة: أَمَرتُكم فضيَّعتُم ما عَهِدتُ إليكم فيه، ورفعتُ أنسابَكم، فاليومَ أرفعُ نَسَبي وأضَعُ أنسابَكم؛ أين المتَّقونَ؟ أين المتَّقونَ؟ إِنَّ أكرمَكُم عند الله أتقاكُم" (1) .
هذا حديثٌ عالٍ غريبُ الإسناد والمتن، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ من حديث طَلْحة بن عمرو عن عطاء بن أبي رَبَاح عن أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3725 - المخزومي ابن زبالة ساقط
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: میں نے تمہیں حکم دیا تھا لیکن میں نے جو عہد تم سے لیا تھا تم نے اسے ضائع کر دیا اور میں نے تمہارے نسبوں کو بلند کیا تھا جبکہ آج میں اپنی نسبت کو بلند کروں گا اور تمہارے نسب پست کر دوں گا۔ کہاں ہیں پرہیزگار؟ کہاں ہیں پرہیزگار؟ بے شک اللہ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ ٭٭ یہ حدیث عالی ہے غریب المتن و الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ طلحہ بن عمرو کے ذریعے عطاء بن ابی رباح کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3767]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3768
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن عبد الله بن أحمد الحَفيد، حَدَّثَنَا أحمد بن نَصْر، حَدَّثَنَا أبو غسّان النَّهْدي، حَدَّثَنَا طلحة بن عمرو، عن عطاء بن أبي رَبَاح، عن أبي هريرة أنه تلا قولَ الله ﷿: ﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾، فقال: إِنَّ الله يقول يوم القيامة: يا أيها الناسُ، إني جعلتُ نَسَبًا وجعلتُم نَسَبًا، فجعلتُ أكرمَكُم أتقاكُم، وأَبَيْتُم إلَّا أن تقولوا: فلانُ بنُ فلان أكرمُ من فلانِ بن فلان، وإِنِّي اليومَ أَرفَعُ نَسَبي وأضَعُ أنْسابَكم، أين المتَّقونَ؟ قال طلحةُ: فقال لي عطاء: يا طلحةُ، ما أكثرَ الأسماءَ يومَ القيامةِ على اسمي واسمك، فإذا دُعِيَ فلا يقومُ إِلَّا من عُنِيَ (2) . [50 - ومن تفسير سورة (ق) ]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3726 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت کی: اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ (الحجرات: 13) بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔ پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: اے لوگو! میں نے نسب بنایا اور تم نے بھی نسب بنایا، میں تم میں زیادہ عزت والا، زیادہ پرہیزگار کو بنایا جبکہ تم نے انکار کیا۔ تم کہتے ہو فلاں بن فلاں، فلاں بن فلاں سے زیادہ عزت والا ہے اور میں آج اپنی نسبت کو اونچا کروں گا اور تمہارے نسب پست کروں گا۔ کہاں ہیں پرہیزگار، کہاں ہیں پرہیزگار۔ سیدنا طلحہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: مجھے عطاء نے کہا: اے طلحہ قیامت کے دن تیرے اور میرے ہم نام کتنے ہی لوگ ہوں گے لیکن جب ان کو پکارا جائے گا تو صرف وہی اٹھے گا جس کا بلانا مقصود ہو گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3768]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں