المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
334. سِدْرُ الْجَنَّةِ مَخْضُودٌ يُجْعَلُ مَكَانَ كُلِّ شَوْكَةٍ ثَمَرَةٌ
جنت کا بیری کا درخت (سدر) بغیر کانٹوں کے ہوگا، ہر کانٹے کی جگہ پھل ہوگا
حدیث نمبر: 3820
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا بِشْر بن بَكْر، حدثنا صفوان بن عمرو، عن سُلَيم بن عامر، عن أبي أُمامة قال: كان أصحاب رسول الله ﷺ يقولون: إنَّ الله ينفعُنا بالأعراب ومسائِلهم، أقبَلَ أعرابيٌّ يومًا فقال: يا رسول الله، ذَكَرَ اللهُ (2) في القرآن شجرةً مؤذيةً، وما كنت أُرى أنَّ في الجنة شجرةً تُؤْذي صاحبَها، فقال رسول الله ﷺ:"وما هي؟" قال: السِّدْر، فإنَّ لها شوكًا، فقال رسول الله ﷺ: ﴿فِي سِدْرٍ مَخْضُودٍ﴾ [الواقعة: 28] ، يَخضِدُ اللهُ شوكَه، فيجعل مكانَ شوكِه ثمرةً، فإنها تُنبِتُ ثمرًا يُفتَق الثمرُ معها عن اثنين وسبعين لونًا [من] طعامٍ، ما منها لونٌ يُشبِه الآخر" (1) . صحيح الإسناد ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3778 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3778 - صحيح
سیدنا ابوامامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کہا کرتے تھے: اللہ تعالیٰ ہمیں دیہاتیوں اور ان کے مسائل کی وجہ سے فائدہ دیتا ہے۔ ایک دن ایک دیہاتی آیا اور بولا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں تکلیف رساں درخت کا ذکر کیا ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ جنت میں کوئی ایسا درخت ہو گا جس سے کسی جنتی کو نقصان ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: وہ کون سا درخت ہے؟ اس نے کہا:” بیری “ کیونکہ اس میں کانٹے ہوتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ“ ” بے کانٹوں کی بیریوں میں۔“ اللہ تعالیٰ اس سے کانٹے صاف کر دے گا اور ہر کانٹے کی جگہ اللہ تعالیٰ پھل لگا دے گا۔ وہاں ایسے پھل اگیں گے جو ایک پھل کو پھاڑ کر پیدا ہوں گے۔ علاوہ ازیں ان میں بہتر رنگ ہوں گے، ان میں سے کوئی ایک رنگ بھی دوسرے سے ملتا جلتا نہیں ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3820]
حدیث نمبر: 3821
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان، عن سليمان الشَّيباني، عن يزيد بن الأصمِّ، عن ابن عبَّاس: ﴿وَظِلٍّ مِنْ يَحْمُومٍ﴾ [الواقعة: 43] ، قال: من دُخانٍ أسودَ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3779 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3779 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما: وَّ ظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍ ” اور جلتے ہوئے دھوئیں کے سائے میں۔“ کے بارے میں فرماتے ہیں (اس سے مراد) کالے دھوئیں کے سائے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3821]