🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

340. خُصُوصِيَّةُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِتَقْدِيمِ صَدَقَةِ النَّجْوَى
حضرت علیؓ کی خصوصیت کہ انہوں نے نجویٰ کی صدقہ پیش کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3836
أخبرني عبد الله بن محمد الصَّيدلاني، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا يحيى بن المغيرة السَّعْدي، حدثنا جَرِير عن منصور، عن مجاهد، عن عبد الرحمن ابن أبي ليلى قال: قال عليُّ بن أبي طالب: إنَّ في كتاب الله لَآيةً ما عَمِلَ بها أحدٌ ولا يعملُ بها أحدٌ بعدي آية النَّجْوى: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً﴾ الآية [المجادلة: 12] ، قال: كان عندي دينارٌ فبِعتُه بعشرة دراهمَ فناجيتُ النبيَّ ﷺ، فكنت كلَّما ناجيتُ النبيَّ ﷺ قدَّمتُ بين يَدَيْ نَجْواي درهمًا، ثم نُسِخَت فلم يَعملْ بها أحدٌ، فنَزَلت: ﴿أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ﴾ الآية [المجادلة: 13] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3794 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قرآن کریم میں ایک آیت نجویٰ ہے جس پر نہ تو مجھ سے پہلے کوئی عمل نہ کر سکا اور نہ میرے بعد اس پر کوئی عمل کر سکے گا (وہ آیت یہ ہے) یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْآ اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰکُمْ صَدَقَۃً) (المجادلۃ: 12) اے ایمان والو جب تم رسول سے کوئی بات آہستہ عرض کرنا چاہو تو اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقہ دے لو۔ آپ فرماتے ہیں: میرے پاس ایک دینار تھا، میں نے اس کو دس درہموں کے عوض بیچ دیا پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی اور میری یہ عادت تھی کہ جب بھی کوئی بات آپ کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا تو اپنی عرض سے پہلے ایک درہم صدقہ دیا کرتا تھا۔ پھر یہ آیت منسوخ ہو گئی اور اس پر اور کوئی بھی عمل نہ کر سکا تو یہ آیت نازل ہوئی: ا{أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُوا وَتَابَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ} [المجادلة: 13] کیا تم اس سے ڈرے کہ تم اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقے دو پھر جب تم نے یہ نہ کیا، اور اللہ نے اپنی مہر سے تم پر رجوع فرمائی تو نماز قائم رکھو اور زکوۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار رہو، اور اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3836]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3837
حدثني أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا الحسن بن علي بن عفَّان، حدثنا عمرو بن محمد العَنقَزي، حدثنا إسرائيل، حدثنا سِماك بن حَرْب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: كان رسول الله ﷺ في ظلِّ حُجْرة وقد كاد الظلُّ أن يَتقلَّص، فقال رسول الله ﷺ:"إنه سيأتيكم إنسانٌ فيَنظُرُ إليكم بعَيْن شيطانٍ، فإذا جاءَكم فلا تُكلِّموه"، فلم يَلبَثوا أنْ طَلَعَ عليهم رجلٌ أزرقُ أعورُ، فقال: حينَ رآه دَعَاه رسولُ الله ﷺ، فقال:"عَلَامَ تَشتِمُني أنت وأصحابُك؟" فقال: ذَرْني آتِكَ بهم، فانطَلَق فدعاهم، فحَلَفوا ما قالوا وما فعلوا، حتى تَجوَّز (1) ، فأنزل الله ﷿: ﴿يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَيْءٍ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ﴾ [المجادلة: 18] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3795 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پتھر کے سائے میں تھے۔ وہ سایہ سمٹنے کے قریب تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے پاس ایک آدمی آئے گا، وہ تمہاری طرف شیطان کی نگاہ سے دیکھے گا۔ جب وہ تمہارے پاس آئے تو تم اس سے گفتگو مت کرنا۔ ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ ان کے پاس ایک نیلگوں، انکھ والا، کانا آدمی آیا۔ اس نے آتے ہی کہا: اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: تم اور تمہارے ساتھی مجھے کس وجہ سے برا بھلا کہتے ہو؟ اس نے کہا: آپ مجھے اجازت دیں، میں ان کو آپ کے پاس بلا کر لاتا ہوں، وہ گیا اور اپنے ساتھیوں کو بلا کر لے آیا۔ وہ آپ کے پاس قسمیں کھا گئے کہ انہوں نے نہ تو کوئی غلط بات کی ہے، نہ کوئی خیانت والا عمل کیا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: یَوْمَ یَبْعَثُھُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَہٗ کَمَا یَحْلِفُوْنَ لَکُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ عَلٰی شَیْئٍ اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْکٰذِبُوْنَ (المجادلۃ: 18) جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو اس کے حضور بھی ایسی قسمیں کھائیں گے جیسی تمہارے سامنے کھا رہے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کچھ کیا۔ سنتے ہو بیشک وہی جھوٹے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3837]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں