المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
427. تَفْسِيرُ سُورَةِ قُرَيْشٍ - فَضْلُ قُرَيْشٍ بِسَبْعِ خِلَالٍ
تفسیر سورہ قریش - سات خصلتوں کی بنا پر قریش کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 4019
حدَّثنا بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيرَفي، حدَّثنا أحمد بن عبيد الله النَّرْسي، حدَّثنا يعقوب بن محمد الزُّهْري، حدَّثنا إبراهيم بن محمد بن ثابت بن شُرَحبيل، حدثني عثمان بن عبد الله بن أبي عَتيق، عن سعيد بن عمرو بن جَعْدة بن هُبيرة، عن أبيه، عن جدَّته أم هانئ بنت أبي طالب، أَنَّ رسول الله ﷺ قال:"فَضَّل اللهُ قريشًا بسبع خِلالٍ: أنِّي فيهم، وأنَّ النبوَّةَ فيهم، والحِجابةَ فيهم، والسِّقاية فيهم، وأنَّ الله نَصَرَهم على الفِيل، وأنهم عَبَدوا الله عشرَ سنين لا يَعبدُه غيرُهم، وأنَّ الله أَنزَلَ فيهم سورةً من القرآن" ثم تَلاها رسول الله ﷺ: ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. لإِيلَافِ قُرَيْشٍ (1) إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ (2) فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ (3) الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ﴾ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3975 - يعقوب ضعيف وإبراهيم صاحب مناكير هذا أنكرها
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3975 - يعقوب ضعيف وإبراهيم صاحب مناكير هذا أنكرها
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سات چیزوں کی وجہ سے قریش کو فضیلت بخشی ہے: (1) میں قریش میں ہوں۔ (2) نبوت ان میں ہے۔ (3) کعبۃ اللہ کی) دربانی ان کے پاس ہے۔ (4) (آب زم زم کی) نگرانی ان کے پاس ہے۔ (5) اللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں پر ان کو غلبہ دیا۔ (6) انہوں نے وہ دس سال اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ہے جب ان کے سوا کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کرتا تھا۔ (7) اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق قران کریم کی ایک مکمل سورۃ نازل فرمائی ہے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورت کی تلاوت فرمائی: بسم اللہ الرحمن الرحیم، لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍ اٖلٰفِھِمْ رِحْلَۃَ الشِّتَآئِ وَ الصَّیْفِ فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ ھٰذَا الْبَیْتِ الَّذِیْٓ اَطْعَمَھُمْ مِّنْ جُوْعٍ وَّ ٰامَنَھُمْ مِّنْ خَوْفٍ ” اس لیے کہ قریش کو میل دلایا، ان کے جاڑے اور گرمی دونوں کے کوچ میں میل دلایا تو انہیں چاہیے کہ اس گھر کے رب کی بندگی کریں، جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا، اور انہیں ایک بڑے خوف سے امان بخشا۔“ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 4019]